دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 35
فصل دوم 35 555 ( آئمہ اہل بیت ، صحابہ نبوی ، خلفاء اور مجددیت ) آئمہ اہل بیت : 34 اکتوبر ۱۹۸۱ء میں حضرت خلیفہ مسیح الثالث کراچی (ڈیفنس سوسائٹی ) میں رونق افروز تھے کہ مجھے فوراً بذریعہ جہاز پہنچنے کا ارشاد ہوا۔دراصل ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی صدر ضیاء الحق سے ملاقات مقرر تھی اور انہیں بعض حوالے درکار تھے جو میں نے پیش کر دیئے۔انہی ایام کا واقعہ ہے کہ کراچی کے ایک نامور شیعہ رہنما جناب محمد وصی خاں صاحب (صدر مرکزی تنظیم عزا۔شیعہ ماتمی انجمنوں کی فیڈ ریشن) نے خلیفہ راشد سے شرف ملاقات حاصل کیا۔دراصل انہیں تاریخ پاکستان کے تعلق میں کچھ مواد مطلوب تھا۔حضور انور نے انہیں اپنے اس ادنی غلام سے ملنے کے لیے ہدایت فرمائی۔جناب محمد ولی خاں صاحب نے ابتدائی گفتگو کے بعد سوال کیا کہ آپ لوگوں کا آئمہ اہل بیت کے متعلق کیا عقیدہ ہے؟ میں نے جواب میں حضرت مسیح موعود کا ایک فارسی شعر پڑھ کر دعوی کیا کہ آئمہ اہل بیت کی حقیقی محبت و شیفتگی کا جھنڈا خدا نے ہمیں عطا کر رکھا ہے۔یہ صحیح ہے کہ ہم ماتم نہیں کرتے اس لیے کہ قرآن نے شہدا کو زندہ قرار دیا ہے۔مسیح الزماں کا عارفانہ شعر یہ ہے: جان خاکم دلم فدائے جمال محمد نثار کوچه آل محمد است میری جان و دل جمال محمد پر قربان ہے۔میری خاک آل محمد کی گلی پر بھی نثار ہے۔میں نے کہا یہ کلام کسی ذاکر یا مجتہد کا نہیں، اس شخصیت کا ہے جسے امام مہدی ہونے کا دعوی ہے اور میں سمجھتا ہوں اگر تمام عشاق اہل بیت کے اقوال ایک پلڑہ میں اور حضرت کا یہ شعر دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو بفضلہ تعالیٰ مہدی موعود کا پلڑہ ہی بھاری ثابت ہوگا۔ازاں بعد میں نے انہیں بتایا کہ آپ