دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 34
34 ہے۔ہے۔حضرت محمد ﷺے کمال لطف ، شفقت اور مرحمت سے اس نوری بچے کو اپنے اہلِ بیت پاک میں جناب امہات المؤمنین حضور حضرت فاطمۃ الزہرا اور حضرت بی بی خدیجتہ الکبری و حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنخن کے سامنے لے جاتے ہیں۔وہاں ہر ایک ام المومنین اسے اپنا فرزند کہتی ہیں اور اپنا نوری دودھ پلاتی ہیں اور وہ شیر خوار اہل بیت خاص ہو جاتا ہے اور اس کا نام فرزند حضوری اور خطاب فرزند نوری ہو جاتا ہے۔“ پھر اپنے روحانی مشاہدہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ حضرت سرور کائنات ﷺ اس فقیر کو باطن میں اپنے حرم محترم کے اندر کمال شفقت اور مرحمت سے لے گئے اور حضرت امہات المومنین حضرت فاطمۃ الزہرا اور حضرت خدیجہ الکبری اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھمن نے اس فقیر کو دودھ پلایا اور آنحضرت مہ اور امہات المومنین نے مجھے اپنے نوری حضوری فرزند کے خطاب سے سرفراز الله فرمایا۔" ( حق نمائے اردو ترجمہ نورالہدی صفحه ۲۲۴، ۲۲۵ طبع پنجم مقام اشاعت کلاچی ضلع ڈیرہ اسمعیل خان ) 33- خاکسار کا ایک مضمون خلافت رابعہ کے اوائل ہی میں ”الفضل“ کی ایک اشاعت میں چھپا جو حضرت مصلح موعود کی بیان فرمودہ ایک خواب کا اقتباس پر مشتمل تھا۔خواب میں’ام المومنین“ کا لفظ بھی تھا جس پر مجھے ربوہ کی حوالات میں بند کر دیا گیا۔تھانہ کے ایک کانسٹیبل صاحب مجھے دیکھتے ہی سخت غضبناک تھے کہ تم نے اپنے مضمون میں ام المومنین کی اصطلاح مرزا صاحب کی اہلیہ کے لیے کیوں لکھی ہے۔ہم مسلمان اس سے مشتعل ہیں۔میں نے انہیں بتلایا کہ یہ خواب جس میں یہ اصطلاح استعمال ہوئی ہے ہمارے امام دوم حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا ہے جو بہشتی مقبرہ میں آسودہ خاک ہیں۔دوسرے یا درکھئے ام المومنین کا فارسی ترجمہ "مادر ملت۔جس سے ہم سب محترمہ مس فاطمہ جناح صاحبہ کو یاد کرتے ہیں حالانکہ وہ حضرت قائد اعظم کی بہن تھیں اور انہیں ”پھوپھی ملت کہنا چاہیے۔کانسٹیبل صاحب بہکا بکا رہ گئے اور میں بھی سید نا حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی دعا کے طفیل چند گھنٹے اسیر حوالات رہنے کے بعد قصر خلافت میں پہنچ گیا۔حضور نے مجھے دیکھتے ہی کمال محبت و شفقت سے ارشادفرمایا کہ پچھلی نمازوں میں تمہیں نہ پا کرغم رسیدہ ہو گیا تھا۔ع کیا طبیعت ہے بادشاہوں بادشاہوں کی