دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 36
36 بے چاروں کو تو ماتم حسین اور تعزیہ داری اور سینہ کوبی کرنے سے ہی فرصت نہیں۔اس۔جماعت احمدیہ کے پیش نظر عالمگیر غلبہ دین اور غیر مسلموں کے حملوں کا جواب ہے۔میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کئی مناظروں میں عیسائی مشنریوں اور آریہ سماجیوں نے اعتراض اٹھایا ہے کہ درود شریف میں کما صليت على ابراھیم کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ جو برکتیں حضرت ابراہیم کو ملیں وہ آپ کے نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔فرمائیے آپ حضرات کے پاس کیا جواب ہے؟ آپ حضرات سینہ کوبی اور خونی ماتم سے دشمنان اسلام کی تسلی نہیں کراسکتے بلکہ وہ الٹا اسلام سے متنفر ہو جائیں گے۔پہلے تو وہ بڑے پروقار انداز میں گفتگو فرما رہے تھے۔یہ سوال سنتے ہی ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور لرزتے ہونٹوں اور کا نیتی زبان سے یہ بر ملا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے کہ اس سوال کا ذکر تک ہمارے ذاکروں، مجتہدوں اور شعرائے اہل بیت نے کبھی نہیں کیا۔نہ ان کے پاس اس کا کوئی معقول ! جواب ہوگا۔خاکسار نے بتایا کہ اگر چہ اس سوال کا عدوان محمد کے لیے کوئی مسکت جواب گزشتہ چودہ سوسالہ لٹریچر میں میری نظر میں نہیں گزرا مگر ہمارے امام عالی مقام خلیفہ موعود مصلح موعود نے اس سلسلہ میں خاص ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔آپ کے لطیف اور پر معارف جواب کا ایک اقتباس سینیے : حضرت ابراہیم نے خدا تعالیٰ سے دعا مانگی تھی کہ ربنا واجعلنا مسلمين لك ومن ذريتنا امة مسلمة لك (٢-١٢١) کہ میری اور اسمعیل کی اولاد سے امت مسلمہ پیدا کر دے۔اب دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام تو یہ دعا مانگتے ہیں کہ ان کو امت مسلمہ ملے۔مگر خدا تعالیٰ اس دعا کو اس رنگ میں قبول کرتا ہے کہ ہم نبیوں کی جماعت پیدا کریں گے۔گویا حضرت ابراہیم نے خدا تعالیٰ سے جو مانگا اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ نے دیا۔انہوں نے مانگے مسلم اور ملے نبی۔اب یہی بات رسول کریم اللہ کے متعلق سمجھو اور درود کے یہ معنے کرو کہ خدا یا جو معاملہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا، وہی محمد ﷺ سے کرنا۔یعنی