دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 13 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 13

13 جماعت احمد یہ دنیا پور کے پریذیڈنٹ شیخ محمد اسلم صاحب نے ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا جس میں میں نے اختر صاحب کے تمام ضروری سوالوں کے جواب دیئے۔اس کے دوران ان کی طرف سے مجھے مناظرہ کا چیلنج دیا گیا۔میں نے اسے فورا منظور کرنے کا لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیا۔مگر ساتھ ہی یہ شرط رکھی کہ تینوں متنازع موضوعات پر مباحثہ ہوگا اور ہو گا صرف قرآن مجید سے کیونکہ ہمارے خدا کا حکم ہے کہ جو لوگ کتاب اللہ سے فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر اور ظالم و فاسق ہیں۔(المائدہ: ۴۵-۴۶ ) سائیں جی نے جواب دیا کہ ہمیں یہ منظور نہیں۔مرزا صاحب کی کتب ضرور پیش کریں گے۔میں نے سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس جواب سے روز روشن کی طرح کھل گیا کہ مکفرین احمدیت کے پاس گالیاں ، استہزا اور پھکڑہ بازی کے شعبدے تو موجود ہیں مگر قرآن ہرگز نہیں۔یہ صرف احمدیوں کے پاس ہے دنیا میں آج حامل قرآن کون ہے گر ہم نہیں تو اور مسلمان کون ہے 8- ایک چکڑالوی یا پرویزی خیال کے تعلیم یافتہ دوست نے دوران گفتگو یہ نظریہ پیش کیا کہ رسول اللہ کا کام صرف قرآن ہم تک پہنچانا تھا۔خاکسار نے ان کی توجہ اس طرف دلائی کہ خود قرآن مجید ہی نے آپ کے اس خیال کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور سورہ جمعہ کی تیسری آیت میں بعثت نبوی کے چار مقاصد بیان فرمائے ہیں۔تلاوت قرآن صحابہ کا تزکیہ اور ان کو قرآن اور اس کی حکمت کی تعلیم دینا۔مؤخر الذکر تینوں مقاصد کی تکمیل سنت وحدیث کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ و بہائی ازم کے ایک پر جوش حامی مدتوں قبل ربوہ میں مجھ سے ملے اور خدا کی از کلی سنت کے مطابق شریعتوں کی منسوخی پر بہت زور دیا اور اس کو قرآن مجید کی منسوخی کا جواز بنایا۔میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ تو آپ کو بھی مسلم ہے کہ شرعی احکام تو بدلتے رہتے ہیں مگر خدا کی محکم پیشگوئیوں پر کبھی خط تنسیخ نہیں کھینچا گیا کیونکہ اس سے خدائے علیم و خبیر کی تو ہین لازم آتی ہے۔اب سنئے قرآن نے اطاعت رسول کے نتیجہ میں نبی، صدیق، شہید اور صالح کا انعام پانے کا حتمی وعدہ دے رکھا ہے۔پس جب تک کم از کم ایک نبی آنحضرت کی پیروی کی برکت سے ظاہر نہ ہو قرآن ہرگز منسوخ نہیں ہوسکتا۔