دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 92 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 92

92 دربار سے پچاس گنا عطا کیا جائے گا اسی طرح میں کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود نے پچاس کتابوں میں جن معارف کے لکھنے کا ارادہ فرمایا وہ اعجازی طور پر پانچ جلدوں میں ہی ریکارڈ ہو گئے اور ساتھ ہی ایسا فضل ربانی ہوا کہ پہلی چار جلدوں میں جو پیشگوئیاں کی گئی تھیں وہ پانچویں جلد سپر قلم ہونے سے قبل حیرت انگیز طور پر معرض وجود میں آگئیں۔اب میں ایک مثال دیتا ہوں جو غور سے سننے کے لائق ہے۔ایک شخص کسی کو ایک روپے کے پچاس نوٹ دینے کا وعدہ کرتا ہے۔مگر بجائے ایک ایک روپے کے پچاس نوٹ دینے کے دس دس روپے کے پانچ نوٹ اس کے حوالہ کر دیتا ہے۔اب فرمائیے کہ یہ پانچ پچاس کے برابر ہوئے یا نہیں۔مولوی صاحب اس پر لطف مثال سے بہت محظوظ ہوئے اور کہا کہ میری تسلی ہو گئی ہے۔دوسرا سوال اُن کی طرف سے یہ کیا گیا کہ آیت "لوتقول" (الحاقہ : ۴۷ ) میں کوئی معیار صداقت بیان نہیں ہوا یہ آنحضرت کو خطاب ہے اور آنحضور ہی کی ذات سے مخصوص ہے۔خاکسار نے حاضرین سے کہا کہ میں اس اہم سوال کا جواب خاتم النبیین محمد عربی ﷺ کی حدیث مبارک سے دیتا ہوں۔مشہور روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید نے جب ایک چوری کرنے والی عورت کی سفارش کی تو در بار نبوی سے ارشاد ہوا کہ خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔( بخاری کتاب الحدود ) مولانا صاحب بتائیے کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث میں اسلامی تعزیرات کا کوئی اصولی بیان ہوا ہے یا اس کا تعلق صرف حضرت فاطمہ کی ذات سے تھا اور دوسرے لفظوں میں آنحضرت کا فرمان تھا کہ اگر فاطمہ اس جرم کا ارتکاب کرتیں تو انہیں قطع ید کی ضرور سزا دی جاتی۔باقی سب لوگوں کو کھلی چھٹی ہے وہ سرقہ کریں یا ڈاکہ ماریں ان کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔اس تشریح پر اس بزرگ کو کھلے بندوں اعتراف کرنا پڑا کہ آنحضرت نے نے اپنی نور چشم حضرت فاطمتہ الزہرا کا نام اس تعزیری قانون پر مزید زور دینے کے لیے لیا اور واضح فرمایا کہ چوری تو ایسا خطرناک جرم ہے کہ (معاذ اللہ ) میری بیٹی بھی اس کی مرتکب ہوتی تو میں اسے بھی سزا دیئے بغیر ہرگز نہ چھوڑتا۔