دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 83 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 83

83 بھی انہی کو ترجیح دی بلکہ پہلی بار جب میں مارچ ۱۹۸۵ء میں لنڈن آیا تو میرے پاس کوئی کتاب تھی۔اس لیے میں انڈیا آفس اور برٹش میوزیم کا ممبر بن گیا اور بہت سی کتابوں کے عکسی صفحات خود محمود ہال کی فوٹو اسٹیٹ مشین سے کر لیں اور یہ فوٹو کا پیاں مہیا کر کے ان کی فائلیں بنالیں۔جن سے پورے یورپ میں مجھے بہت فائدہ ہوا۔اس ضمنی بات کے بعد اب میں بتا تا ہوں کہ جلسہ علی پور کے موقع پر بھی میں نے سٹیج پر بہت سی کتا میں سجا کے رکھی ہوئی تھیں۔حسن اتفاق بلکہ خدا کا فضل دیکھئے میرے سامنے اس وقت معاند احمدیت مولوی عبد الاحد خانپوری صاحب کی کتاب اظہار مخادعت مسیلمہ قادیانی رکھی تھی۔یہ کتاب انہوں نے ۱۹۰۱ء میں حضرت مسیح موعود کے اشتہار الصلح خیر کے جواب میں شائع کی تھی۔جبکہ حضرت اقدس نے علماء زمانہ کو اس معاہدہ کی پیشکش فرمائی کہ فریقین تحریر و تقریر میں اخلاق اسلامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر قسم کی تحقیر و توہین ، بد زبانی ، ہجو اور سب وشتم سے مجتنب رہیں گے۔میں نے یہ پس منظر بیان کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ مسیح محمدی کی اس درد ناک اور مخلصانہ اپیل کے جواب میں مولوی عبدالاحد خانپوری صاحب نے حضور کو پولس ثانی ، مرتد کا فراور مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی ، ابو جہل اور فرعون و ہامان سے موسوم کرتے ہوئے گو ہر افشانی کی کہ: باعث اس صلح نامہ کا یہ ہے کہ طائفہ مرزائیہ بہت خوارو ذلیل ہوئے۔عید و جماعت سے نکالے گئے اور جس مسجد میں جمع ہوکر نمازیں پڑھتے تھے اس میں سے بے عزتی کے ساتھ بدر کیے گئے۔معامله و برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا۔عورتیں منکوحہ و مخطوبہ بوجہ مرزائیت کے چھینی گئیں۔مُردے اُن کے بے تجہیز وتکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے۔“ (صفحہ ۳، مطبع چودھویں صدی راولپنڈی شہر ) اس تاریخی اور مستند حوالہ سے شرفاء کی گردنیں مارے شرم کے جھک گئیں اور میں نے بھی در دبھرے الفاظ صرف اس بات پر اکتفا کیا کہ واقعی چودھویں صدی کے علماء بہت مظلوم ہیں اور احمدی نہایت درجہ ظالم سفاک کیونکہ باوجود یکہ مدت تک ان کو مسجدوں سے بے عزتی کے ساتھ نکالا جاتا رہا