دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 84 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 84

84 یہ لوگ ہمارے علماء کے پیچھے نماز ہی پڑھنا گوارا نہیں کرتے۔ان کی عورتیں نہایت بے دردی سے چھینی گئیں۔اس انسانی مروت کے باوجود یہ فرقہ ہم سے شادی بیاہ کے تعلقات منقطع کیے ہوئے ہے۔ہم نے مرزائیوں کے بچوں تک کو بے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبا دیا اور یہ سلسلہ اب بھی زور وشور سے جاری ہے مگر یہ احسان فراموش اقلیتی فرقہ ہمارے اکابر تک کی نماز جنازہ سے گریزاں ہیں۔82- خلافت ثانیہ کے آخری دور کی بات ہے کہ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح و ارشاد اور حضرت مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئيس التبليغ مشرقی افریقہ اور خاکسار مرکز سے جلسہ سیرت النبی میں شمولیت کے لیے شہر رحیم یارخاں میں پہنچے۔مگر وہاں پہنچتے ہی پتہ چلا کہ ہمارے کرم فرما علماء کے دباؤ میں ڈی سی صاحب ضلع نے جلسہ کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا ہے۔اس پر میں نے سلسلہ کے ان بزرگ علماء ربانی کی خدمت میں تجویز پیش کی کہ جلسہ پر ممانعت ہے مگر ہمیں بذریعہ تحریر علاقہ کے رؤسا، معززین اور عوام کو اس کی اطلاع دینے پر تو پابندی نہیں۔حضرت مولانا شمس صاحب نے میرے خیال کی حمایت فرمائی اور مجھے ہی ایک دو ورقہ لکھنے کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ میں نے جلسہ سیرت النبی ﷺ سے علماء رحیم یار خان کو شدید خطرہ کے عنوان سے مضمون دو ایک گھنٹہ میں لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ یہاں ہر قسم کے کلب، سینما گھر اور بداخلاقی کے اڈے موجود ہیں مگر علاء رحیم یار خان نے کبھی ان کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا لیکن حال ہی میں انہیں جب احمدیوں کے جلسہ سیرت النبی کا پتہ چلا تو انہیں سخت خطرہ لاحق ہو گیا اور انہوں نے اسے بزور بند کرا دیا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مقدس تقریب پر احمدی مقررین نے کیا خطاب کرنا تھا ؟ ہم اس کا شخص حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے عشق رسول میں ڈوبے ہوئے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔اس تمہید کے بعد حضرت مسیح موعود کے بارگاہ خاتم النبیین میں ہدیہ عقیدت کے نثری و شعری کلام کے چند رُوح پرور اور وجد آفریں نمونے سپر د قر طاس کیے گئے۔خالد احمدیت حضرت مولا نائٹس صاحب کے حکم سے راتوں رات یہ دو ورقہ چھپوا لیا گیا اور ضلع کے پُر جوش احمدی نوجوانوں نے عین اس وقت جب جلسہ سیرت النبی کے انعقاد کا پروگرام تھا، یہ پمفلٹ نہ صرف شہر