دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 72
72 ۱۹۸۱-69ء کا واقعہ ہے کہ حضرت خلیفہ المسح الثالث کے ارشاد پر عاجز ایک وفد کے ساتھ پہلی بار بنگلہ دیش گیا۔چٹا گانگ میں نائب امیر جماعت چوہدری عبد الصمد صاحب مرحوم نے اپنی کوٹھی میں ایک شاندار ڈنر کا اہتمام فرمایا جس میں بنگلہ دیش کے قریباً ہر اہم طبقے کے معززین نے شرکت فرمائی۔مدعوین میں جماعت اسلامی کے ایک لیڈر بھی تھے جو ڈھا کہ سپریم کورٹ یا ملک کی کسی ہائی کورٹ کے نامور ایڈووکیٹ تھے۔فرمانے لگے کہ آپ لوگوں کو تو پاکستان پارلیمنٹ نے غیر مسلم“ قرار دے رکھا ہے۔اب آپ کو یہاں تبلیغ کرنے کا کیا حق ہے۔میں نے ان کے سوال کا بہت شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ حدیث نبوی میں ہے کہ سوال علمی خزانوں کی کنجی ہے ( جامع الصغیر للسیوطی ) لہذا آپ کی عطا فرمودہ کنجی کے لیے آپ کا ممنون احسان ہوں۔ان تمہیدی الفاظ کے بعد اول طور پر میں نے اُن سے یہ پہلا سوال کیا کہ کیا بنگلہ دیش کی عدالتوں میں بھی دستور پاکستان کی عملداری ہے؟ کہنے لگے ہر گز نہیں۔بعد ازاں پوچھا کہ پارلیمنٹ میں پاس ہونے والا قانون کیا موثر بہ ماضی ہوتا ہے؟ انہوں نے بالوضاحت جواب دیا کہ سوائے اس کے کہ خود قانون میں اس کا ذکر موجود ہو نئے قانون کا نفاذ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد ہی ہوتا ہے پہلے ہر گز نہیں ہوسکتا۔اس وضاحت کی روشنی میں خاکسار نے یہ آئینی نکتہ پیش کیا کہ پاکستان اسمبلی نے ہمارے خلاف ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو جو قانون پاس کیا اس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو غیر مشروط طور پر آخری نبی نہیں مانتا یا کسی قسم کے نبی ہونے کا دعوی کرتا یا اس مدعی کو نبی یا مجدد مانتا ہے وہ اغراض قانون کی خاطر ” ناٹ مسلم “ ہے۔اب آپ مجھے بتائیے کہ اس شق میں کس مدعی نبوت کی طرف اشارہ ہے۔فرمانے لگے آپ کی جماعت کے بانی کی طرف۔اب میں نے انہیں ان کی وضاحت ہی کا حوالہ دے کر یہ تاریخی حقیقت پیش کی کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ کا وصال ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو برٹش انڈیا میں ہوا جس کے ۳۹ سال بعد ۱۴ را گست ۱۹۴۷ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا اور ۱۹۷۴ء میں اس کی اسمبلی نے قانون پاس کیا۔اب میں پوچھتا ہوں کہ وہ شیر خدا جو قیام پاکستان سے ۳۹ سال قبل اور قرارداد اسمبلی سے ستمبر سے ۶۶ سال قبل سے خالق حقیقی کے دربار اور آنحضرت ﷺ کے قدموں میں آرام کر رہا ہے اس پر اسمبلی پاکستان کا ۱۹۷۴ء کا قانون کس طرح لاگو ہو سکتا ہے۔جماعت اسلامی کے ایڈووکیٹ نے بے ساختہ جواب دیا کہ ہر گز نہیں۔اس پر میں نے بھی بآواز بلند کہا اس صورت میں واضح نتیجہ نکلا کہ ہم احمدیوں پر بھی اس ایکٹ کا نفاذ جائز نہیں اور ہرگز نہیں۔