دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 71 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 71

71 67- راقم الحروف ایک دفعہ حضرت شیخ علی بن حمزہ کی کتاب ”جواہر الاسرار" کی تلاش میں شاہی مسجد کے ناظم کتب خانہ سے ملنے کا اتفاق ہوا۔کتاب تو نہ ملی مگر میں نے وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رہنمائی چاہی کہ ولی اور مولوی میں کیا فرق ہے؟ وہ عالم دین ہونے کے باوجود جواب دینے سے بالکل قاصر رہے۔تب میں نے بتایا کہ مولوی ظاہری اور مادی مدرسوں سے علم حاصل کرتا ہے مگر ولی وہ ہے جو خدا کے مدرسہ میں پڑھتا اور اس سے ہم کلام ہو کر عرفان و حکمت کے اسرار سیکھتا ہے اور اسی اختلاف کے باعث ہر دور کے علماء ظواہر نے اولیا امت پر فتویٰ کفر دیا اور بعینہ یہی سلوک آج بانی جماعت احمدیہ سے کیا جا رہا ہے۔یہ کہ کر میں لائبریری سے باہر آ گیا۔68- ایک بار ملتان جاتے ہوئے خاکسار گورنمنٹ کالج کے ایک پروفیسر صاحب کا ہمسفر تھا۔موصوف نے یہ درد ناک سوال کیا کہ ہم خیر امت ہیں اور یہود مغضوب لیکن ایک طویل عرصہ سے اُن کی تیغ ستم کا شکار ہور ہے ہیں۔حالانکہ وہ چند لاکھ ہیں اور ہماری تعداد کروڑوں سے متجاوز ہے۔کیا خدا نے امت محمدیہ کو چھوڑ دیا ہے اور بنی اسرائیل کو جو مغضوب تھے منعم علیہم کا تاج پہنا دیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ مسئلہ فلسطین میں عربوں کی فقید المثال وکالت حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے فرمائی اور احمدی آج تک صیہونی فتنہ کے خلاف سرتا پا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔اس ضمنی تذکرہ کے بعد آپ کے سوال کا واضح جواب یہ ہے کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ کفر و اسلام کے معرکوں میں ہمیشہ حقیقی اسلام کے علمبرداروں کو فتح نصیب ہوئی ہے۔مگر جب کافروں اور منافقوں کا مقابلہ ہوتا تو کافر کی جیت ہوتی ہے اور منافق ہار جاتے ہیں۔کیونکہ نفاق حق تعالیٰ کی نگہ میں کفر کے مقابل زیادہ سزا کا مستحق ہے۔پھر میں نے یہ مثال دی کہ اگر کوئی شخص پانی کے ہزاروں منکے اپنے پاس رکھے تو کوئی حکومت اس پر قدغن نہیں لگائی نہ کوئی دیوانی یا فوجداری قانون حرکت میں آتا ہے لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے پانی سے بھری ہوئی ایک شیشی پر عرق گلاب کا لیبل چسپاں کر کے اسے دواخانہ میں رکھا ہوا ہے تو اس پر 420 کا مقدمہ چل جائے گا۔اس مثال نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور انہوں نے تسلیم کیا کہ ہم مسلمان ضرور کہلاتے ہیں مگر ہم میں اسلام نہیں ہے اور اسی کی سزا بھگت رہے ہیں۔