دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 107
107 پیدا ہوئی۔اس لیے آپ کا وقت ضائع کیے بغیر آنحضرت محمد مصطفی ﷺ کی سوانح و سیرت پر جماعت احمدیہ کا لٹریچر پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔گر قبول افتد زہے عز و شرف یہ کہ کر ہم سب اٹھ کھڑے ہوئے اور جانے کی اجازت چاہی لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ وہ جماعت کے متعلق کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔مثلاً آپ لوگ مرزا صاحب کو کیا سمجھتے ہیں؟ میں نے کہا اُن کا حقیقی مقام ہے غلام احمد اور یہی آپ کا نام بھی ہے۔جس کی مزید وضاحت آپ کے شعری کلام میں یوں ملتی ہے: جان خاکم , ودلم فدائے جمال محمد نثار کوچه آل محمد خدا و تم این چشمه روان که بخلق قطره زبحر کمال ز بحر کمال محمد جناب ڈی سی صاحب افغان تھے اور فارسی ان کی مادری زبان تھی۔اس لیے انہوں نے دونوں شعر کمال عقیدت سے سنے اور پھر مدحت شہ لولاک کے تصور میں ایسے از خود رفتہ ہو گئے کہ پھر کسی اور سوال کی نوبت نہ آئی۔خاموشی کے وقفہ کو میں نے بہت غنیمت سمجھا اور اپنے الوداعی الفاظ میں اُن کا شکر یہ ادا کیا اور بتلایا کہ ہماری نگاہ میں آپ قابل احترام ہستی ہیں کیونکہ آپ اُس مملکت خداداد کے معزز فرد ہیں جس کے قیام بلکہ نام تک کی خبر بذریعہ الہام بانی جماعت احمدیہ کو اپریل ۱۹۰۲ء میں دی گئی تھی۔چنانچہ آپ نے قیام پاکستان سے ۴۵ سال قبل اپنا یہ الہام شائع کیا۔عیسائی لوگ ایذارسانی کے لیے مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کرے گا اور وہ دن آزمائش کے دن ہوں گے اور کہہ کہ خدایا پاک زمین میں مجھے جگہ دے۔یہ ایک روحانی طور کی ہجرت ہے۔( دافع البلاطبع اول صفحہ ۳۲) کینیڈا کی ایک سابق میئر خاتون: ایک عرصہ کی بات ہے کہ کینیڈا کی ایک سابق میئر خاتون ہندوستان خصوصا مدراس اور قادیان کا دورہ کرنے کے بعد ہار در بوہ ہوئیں۔ان کے پاس ایک امیر جماعت کا مراسلہ تھا جس میں لکھا تھا کہ