دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 108 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 108

108 یہ کیتھولک خاتون جماعت احمدیہ کی مداح ہے۔ہماری خواہش ہے کہ انہیں مؤرخ احمدیت سے گفتگو کا ضرور موقع دیا جائے۔چنانچہ جناب نواب منصور احمد خاں صاحب وکیل التبشیر اور سابق مبلغ سویڈن جناب سمیع اللہ زاہد صاحب اس معزز خاتون کو لے کر خاکسار کے غریب خانہ پر تشریف لائے۔محترمہ نے بتایا کہ وہ خاص طور پر مدراس میں تھو ما حواری کے مزار کی زیارت کے لیے گئی تھیں۔میں نے ان کا مناسب الفاظ میں خیر مقدم (WELCOME) کیا اور مسکراتے ہوئے تذکرہ کیا کہ ہم احمدی ڈیل مسیحی ہیں کیونکہ امت موسوی کے میسی پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور امت محمدیہ کے مسیح موعود پر بھی۔پھر کہا کہ میں بھی گزشتہ سال مدر اس گیا تھا اور مزار تھوما پر حاضری کی توفیق پائی۔اس بات نے اُن کے دل کو میری بات دلچسپی اور غور سے سننے کی طرف مائل کر دیا۔میں نے کہا مجھے آپ کی خدمت میں یہ تاریخی حقیقت پیش کرنا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنا مشن یہ بیان فرمایا تھا: میں بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔“ ( متی باب ۱۵ آیت ۲۴) چونکہ بنی اسرائیل کے قبائل افغانستان اور کشمیر کے علاوہ مدراس میں بھی موجود تھے اس لئے حضرت یسوع مسیح نے تھو ما حواری کو ان میں اپنی منادی کے لیے بھجوایا۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ نے انہیں صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا تھا تو وہ افغانستان اور کشمیر میں آباد ہزاروں لاکھوں یہودیوں کو چھوڑ کر اور اپنے اصل مشن کو فراموش کر کے چرخ چہارم پر کیوں تشریف لے گئے۔خصوصاً جبکہ ان میں زبر دست قوت پرواز تھی اور وہ بآسانی ان سب مشرقی ممالک میں پہنچ سکتے تھے اور برقی رفتاری سے سب تک اپنا پیغام پہنچا سکتے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک سیکنڈ کے لیے بھی یہ تصور فرض کر لیا جائے تو یہ حضرت سیدنا مسیح جیسے اولوالعزم پیمبر سے بڑی زیادتی ہوگی اور اس سے لازم آتا ہے کہ آپ (پروٹسٹنٹ اور کیتھولک مذہبی سکالرز کے عقیدہ کے مطابق ) خدا کے داہنے ہاتھ پر نہیں بیٹھے بلکہ معاذ اللہ اپنی اس خطرناک حکم عدولی کی پاداش میں آسمانی عدالت میں آپ کا کورٹ مارشل ہورہا ہوگا۔یه کینیڈین خاتون یہ بات سن کر گہرے غور و فکر میں ڈوب گئیں اور چند منٹ کی خاموش کے بعد خود بخو داٹھ کھڑی ہوئیں اور گفتگو کا سلسلہ بھی خود بخود اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا۔