دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 106
106 ! میں زیب تن کئے ان کی خدمت میں پہنچا۔دوران گفتگو میں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میرا تعلق اسی جماعت سے ہے جس سے یو این او میں فلسطین کا مسئلہ پیش کرنے والے بطل اسلام السید چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو وابستگی کا شرف حاصل ہے۔بعد ازاں میں نے آنحضرت مے کی شان میں حضرت مسیح موعود کے عربی قصائد کے اشعار سنائے اور پوری دنیا میں جماعت احمدیہ کے اشاعتی کارناموں کا مختصر تذکرہ کیا۔ملاقات مختصر تھی مگر اسید لوطا خاص طور پر حضرت مسیح موعود کے عربی کلام سے غایت درجہ متاثر ہوئے۔محل سے باہر نکلتے ہی امیر جماعت دوبئی فرمانے لگے واللہ اس ملاقات کے وقت اگر کوئی اور شخص بھی موجود ہوتا تو وہ پکار اٹھتا کہ تم عربی اور وہ مجھی ہیں۔میں نے عرض کیا کہ میری تو اتنی بھی حیثیت نہیں جتنی زندہ آفتاب کے مقابل ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی ہوتی ہے۔حق یہ ہے کہ سحر طرازی کے یہ علمی کرشمے آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق مسیح موعود کے چشمہ فیضان کی بدولت ہیں۔وگر نہ من آنم کہ من دانم - والله على ما اقول شهيد۔ڈپٹی کمشنر صاحب ڈیرہ اسماعیل خان (سرحد): ڈیرہ اسماعیل خان کی مخلص جماعت نے مرکز میں اطلاع دی کہ یہاں جلسہ سیرۃ النبی کا انتظام کیا گیا ہے کوئی مربی بھجوایا جائے۔نظارت اصلاح و ارشاد کی طرف سے خاکسار بروقت پہنچ گیا۔لیکن پہنچتے ہی یہ معلوم ہوا کہ جناب ڈپٹی کمشنر ضلع نے فرقہ پرست ملاؤں کے شدید دباؤ پر اجازت نامه منسوخ کر دیا ہے۔میں نے احباب جماعت سے گزارش کی کہ ہمیں جلسہ کے متبادل کے طور پر دن میں سارا دن درود شریف پڑھنے اور رات تہجد ادا کرنے میں گزارنا چاہیے۔اسی روز میری درخواست پر احباب جماعت نے آنحضرت ﷺ کی سوانح سے متعلق انگریزی لٹریچر ایک خوبصورت پیکٹ کی صورت میں تیار کیا جسے لے کر میں ایک جماعتی وفد کے ساتھ جناب ڈی سی صاحب کے دفتر میں پہنچا۔اپنا وزٹنگ کارڈ اندر بھیجوایا۔چند منٹوں کے بعد ہی انہوں نے (جو شریف النفس انسان تھے ) ممبران وفد کو بلوالیا۔اور نہایت اعزاز کے ساتھ کرسیوں پر بٹھایا۔میں نے کسی تمہید کے بغیر اُن کی خدمت میں جماعتی لٹریچر تحفہ پیش کرتے ہوئے صرف یہ کہنا کہ میں ربوہ سے یہاں جلسہ سیرت النبی میں شرکت کے لیے حاضر ہوا تھا۔واپسی سے قبل میرے دل میں آپ سے ملاقات کی شدید تمنا