دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 101 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 101

101 محفوظ تھا۔ان دنوں جمعیتہ کے صدر سید داؤد غزنوی اور ناظم اعلیٰ مولوی محمد اسمعیل تھے۔اس تاریخی تقریب پر بعض اہلحدیث حضرات نے گوجرانوالہ کے امیر جماعت احمد یہ جناب میر محمد بخش صاحب ایڈووکیٹ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس میں آپ کی جماعت کی بھی نمائندگی ہونی چاہئے۔جس پر مرکز سے مجھے بھجوایا گیا۔مجھے سٹیج پر جگہ دی گئی۔جہاں میں نے جھنڈا کی بھی زیارت کی اور بعض اکابر علمائے اہلحدیث سے گفتگو کا موقع بھی میسر آیا۔ایک اہلحدیث عالم دین نے دریافت کیا کہ توحید اور ردشرک کے معاملہ میں اہلحدیث اور احمدی دونوں ایک سا خیال رکھتے ہیں اور دونوں عرس، قبر پرستی اور دیگر مشرکانہ رسوم سے بیزار ہیں۔آخر ہمارا اختلاف کیا ہے؟ میں نے وقت اور موقع کی مناسبت سے عرض کیا۔بنیادی اعتبار سے صرف دو فرق ہیں۔پہلا یہ کہ احمدیت کا مقصد توحید خالص کا قیام ہے اسی لیے ہم کسی ولی بلکہ کسی نبی خصوصاً حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کی خاص صفات سے متصف ماننے کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔دوسرے یہ کہ اہلحدیث بزرگوں کے نزدیک قافلہ مجددیت تیرھویں صدی ھجری میں پہلے رائے بریلی میں پہنچا پھر بالا کوٹ میں آ کے ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا لیکن ہمارے نزدیک یہ مقدس کاروان چودھویں صدی میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی قیادت میں قادیان سے اٹھا اور اب ربوہ میں اپنی شان کے ساتھ رواں دواں ہے۔یاد آیا کہ ایک بار مجھے اہلحدیث عالم مولوی محمد اسمعیل ذبیح خطیب جامع مسجد راولپنڈی کا درس سننے کا اتفاق ہوا۔( آپ نے اس کا نفرنس میں بھی خطبہ جمعہ دیا تھا ) درس کا موضوع تو حید اور رو شرک تھا۔جس کے بعد میں نے آپ سے ملاقات کی اور اس بات پر اظہار مسرت کیا کہ بہت عمدہ پیرا یہ میں آپ نے وحدانیت پر روشنی ڈالی ہے مگر ہمیں یہ بھی تو سوچنا پڑے گا کہ شرک کیا ہے؟ فرمایا خدا کی ذاتی اور مخصوص صفات کو کسی بندہ سے مخصوص کرنا شرک کہلاتا ہے۔مثلاً خالق محی الاموات ، عالم غیب ، الآن کما کان جی و قیوم وغیرہ ذات باری سے ہی مختص ہیں۔اس لیے کسی ولی کی طرف بھی ان کو منسوب کرنا انسان کو مشرک بنا دیتا ہے۔اُن کی زبان سے یہ کلمہ حق جاری ہونے پر میں نے انہیں بتایا کہ آپ حضرات یہ سب صفات حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے بھی یقین کرتے ہیں۔جھٹ بولے