دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 42 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 42

42 فصل سوم ( حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام ) 41۔1985ء میں جماعت احمد یہ بریڈ فورڈ (انگلستان) نے ایک مجلس سوال و جواب کا اہتمام کیا جو ہر اعتبار سے کامیاب اور پر ہجوم تھی۔اس موقعہ پر ایک اہل حدیث بزرگ نے بھی دوسوال کئے۔اول حضرت مسیح ناصری کی شادی کا ذکر قرآن مجید سے دکھلائیے۔دوم حدیث نبوی سے قبر مسیح کا ثبوت پیش کیا جائے۔خاکسار نے پہلے سوال کے جواب میں سورہ الحدید کے آخری رکوع کی آیت نمبر 28 پیش کی جس میں اللہ جلشانہ نے فیصلہ فرما دیا کہ رہبانیت (یعنی شادی نہ کرنا ) ایک بدعت ہے جس کا آغاز معاذ اللہ حضرت مسیح موعود ناصری نے نہیں کیا بلکہ آپ کے بعد نام نہاد مسیحوں نے کیا۔اگر حضرت مسیح ناصری عمر بھر واقعی مجر در ہے تو خدا تعالیٰ کو تو شاباش دینی چاہیے تھی کہ تم نے خوب اپنے نبی کی سنت پر عمل کیا مگر اسکی بجائے اعلان عام کیا جاتا ہے رہبانیت بدعت تھی جو سنت نبی کے خلاف تھی قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ مسیح یقیناً شادی شدہ تھے۔دوسرے سوال کے جواب میں عاجز نے ”بخاری کتاب الصلوۃ “ حدیث 421-422 پڑھی کہ یہود اور نصاری پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود و نصاری دونوں پر لعنت کی۔اب سوچئے نصاری کا تو ایک ہی نبی ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام۔لہذا ما نا پڑے گا کہ حضرت مسیح کی قبر موجود ہے اور عیسائی اس کو مسجود بنا کر ملعون قرار پا چکے ہیں۔صاف کھل گیا کہ مسیح علیہ السلام بانی جماعت احمدیہ کی تحقیق کی رو سے کشمیر میں آسودہ خاک ہیں اور عہد حاضر کے مغربی سکالرز ہی نہیں ، عرب و عجم کی متعدد بلند پایہ شخصیتوں کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے۔-42 7 ستمبر 1974ء کے بدنام زمانہ فیصلہ کے کچھ عرصہ بعد فیصل آباد کے نامور بریلوی عالم دین مولوی سردار احمد صاحب دیال گڑھی کے بعض معتقد علماء بیت مبارک ربوہ میں استاذی المعظم حضرت