دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 41 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 41

41 سوال یہ ہے کہ اگر یہ خلافت بلا فصل کا شاہی اعلان تھا تو ہمارے شیعہ بھائی ”حدیث قرطاس‘“ کا سوال کیوں اٹھاتے ہیں۔جبکہ یہ معاملہ توکئی ماہ قبل نبیوں کے شہنشاہ غم غدیر کے موقع پر ہزاروں صحابہ میں رونق افروز ہوکر طے فرما چکے تھے۔خلفا اور مجددیت : 40- دور خلافت ثالثہ میں خاکسار نے حیدر آبادسندھ کے ایک اجتماع میں شرکت کی جہاں یہ سوال بڑے زور شور اور شدومد سے اٹھایا گیا کہ کیا خلیفہ راشد کی موجودگی میں مجدد آسکتا ہے؟ میں نے نونہالانِ احمدیت سے سوال کیا کہ فرض کیجئے اگر تیرہ صدیوں کے مجددا یک میدان میں جمع ہوں عین نماز کے وقت ایک صحابی رسول بھی تشریف لے آئیں تو فرمائیے امامت کے مستحق کون قرار پائیں گے۔ہر طرف سے آوازیں بلند ہوئیں صحابی رسول“۔میں نے اس امر کو نکتہ آغاز بناتے ہوئے استدلال کیا کہ ثابت ہوا کہ تمام مجد دینِ اُمت سے صحابی رسول کا مقام افضل ہے۔اب ذرا تاریخ اسلام دیکھئے۔تمام مؤرخین اس واقعہ پر متفق ہیں کہ صحابہ چاہتے تھے کہ وصال نبوی کے بعد مدینہ کا ماحول پُر خطر ہے اس لیے مدینۃ الرسول سے شام کے لیے کوئی لشکر نہ بھجوایا جائے۔مگر حضرت ابو بکر صدیق نے تاجدار خلافت کی حیثیت سے تمام صحابہ کا یہ مطالبہ یکسر رد کر دیا جس پر جملہ صحابہ نے بلا تامل پوری بشاشت سے لبیک کہا اور خدا تعالیٰ نے بھی عساکر اسلام کو فتح مبین عطا کر کے اپنی خوشنودی کی مہر تصدیق ثبت کر دی۔یہ ہے جملہ مجددین کے مقابل خلیفہ راشد کی شان عظیم۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے انہی دنوں خاص اسی موضوع پر سالانہ اجتماع انصار اللہ مرکزیہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سب مبلغین احمدیت اپنے اپنے حلقہ میں مجددہی ہیں۔اسی طرح قیامت تک لاکھوں کروڑوں بلکہ بے شمار مجدد پیدا ہوں گے۔مگر ہوں گے خلیفہ وقت کے خادم اور عاشق !!