دیوبندی چالوں سے بچئے

by Other Authors

Page 40 of 62

دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 40

اسی طرح رسالہ الندوہ میں مزید لکھا ہے۔علماء ( دیو بند وندوہ ) کا ایک ضروری فرض یہ بھی ہے کہ گورنمنٹ کی برکات سے واقف ہوں اور ملک میں گورنمنٹ کی وفاداری کے خیالات پھیلائیں۔“ (الند وہ جولائی ۱۹۰۸) پس صاف کہو کہ اب دیو بندی انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہوئے یا احمدی چنانچہ تاریخ اس امر کی شہادت بھی دیتی ہے کہ اگر ایک طرف دار العلوم دیو بند والے گورنمنٹ برطانیہ کے نوکر تھے تو دوسری طرف ندوہ کو سالانہ چھ ہزار روپے انگریز حکومت کی طرف سے گرانٹ ملتی تھی ( الندوه دسمبر ۱۹۰۸) اسی لئے با قاعدہ جلسوں میں ملکہ وکٹوریہ کو ظلِ سبحانی اور سایہ حق تک کہا جاتا تھا چنانچہ ان دنوں انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں پڑھی جانے والی نظم کا ایک شعر یوں بھی تھا سایۂ حق ان پر تھا خود ظلِ سبحانی تھیں یہ سارے عالم میں بڑی یکتا مہارانی تھیں اجلاس انجمن حمایت اسلام منعقدہ اکتوبر ۱۹۰۳ء بمقام امرتسر - پنجاب) اُس زمانہ میں اسی تعریف کے بل بوطے پر یہ دیو بندی مولوی انگریزوں سے سالانہ گرانٹیں اور جاگیر حاصل کیا کرتے تھے چنانچہ اہل حدیث کے لیڈر مولوی محمد حسین بٹالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کی وجہ سے تمام طبقہ کے مولویوں کے لیڈر سمجھے جاتے ہیں نے انگریزوں کی خوشامدیں کر کے چک نمبر ۳۶ تحصیل جڑانوالہ ضلع لائلپور ( حال فصل آباد پاکستان ) میں جا گیر حاصل کی تھی ( بحوالہ حیات طیبہ مؤلفہ عبد القادر صاحب سابق سود اگر مل صفحه (۲۶۴) 40 40