دیوبندی چالوں سے بچئے

by Other Authors

Page 39 of 62

دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 39

کوڑیوں میں ہو رہا ہے جو کام پرنسپل ہزاروں روپیہ ماہوار تنخواہ لے کر کرتا ہے وہ یہاں مولوی چالیس روپے ماہانہ پر کر رہا ہے۔یہ مدرسہ خلاف سرکار نہیں بلکہ موافق سرکا رمد و معاون سرکار ہے۔( مولانا محمد احسن نانوتوی صفحه ۲۱۷ بحوالہ زلزله صفحه ۹۴ پس دیو بندیوں نے صاف اقرار کیا ہے کہ ہم تھوڑی رقم کے عوض میں سرکا رانگلشیہ کی غلامی کر رہے ہیں چنانچہ قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیو بند کا یہ بیان ملاحظہ فرمائیے ! مدرسہ دیو بند میں کارکنوں کی اکثریت ) ایسے بزرگوں کی تھی جو گورنمنٹ کے قدیم ملازم حال پیشنر تھے۔“ ( حاشیہ سوانح قاسمی صفحه ۲۴۷ بحوالہ زلزله صفحه ۹۶) اسی طرح یہ بات ہر خاص و عام کو معلوم ہے کہ جنگ عظیم دوم میں متحدہ ہند (ہندوستان۔پاکستان اور بنگلہ دیش) کے مسلمانوں کو شامل کرنے کے لئے انگریز نے مولوی رشید احمد گنگوہی کے فتووں سے ہی فائدہ اُٹھایا تھا۔پیسہ اخبار لا ہورا امئی ۱۹۱۸ء) پس تاریخ کی یہ منہ بولتی شہادتیں کھول کھول کر بتا رہی ہیں کہ انگریزوں کے دور حکومت میں دیو بندی انگریزوں کے غلام۔نوکر۔ملازم و پنشنر رہے ہیں۔احمدی نہیں ! یہی نہیں ندوۃ العلماء لکھنو جو د یو بندی مسلک کے لوگوں کا ہی ایک ادارہ ہے اس ادارے کاسنگ بنیاد بھی ایک انگریز نے رکھا تھا چنانچہ رسالہ الندوہ میں لکھا ہے۔۲۸ نومبر ۱۹۰۸ء کو دارالعلوم ندوۃ العلماء کا سنگ بنیاد ہنر آنر لیفٹیننٹ گورنر بہادر ممالک متحدہ سر جان سکاٹ ہیوس کے سی ایس آئی اسی نے رکھا تھا۔“ ( الندوہ دسمبر ۱۹۰۸ء) 39