دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 51
مذکورہ کتاب کے حصہ ”کتاب النکاح میں بعنوان ” کون آدمی اپنے اور اپنے میل کے ہیں اور کون نہیں“ لکھا ہے مسئله نمبرا : شرع میں اس کا بڑا خیال گیا ہے کہ بے میل اور بے جوڑ نکاح نہ کیا جائے یعنی لڑکی کا نکاح کسی ایسے مرد سے مت کرو جو کہ برابر درجے کا اور اس کی ٹکر کا نہیں ہے۔مسئلہ نمبر ۲: برابری کئی قسم کی ہوتی ہے ایک تو نسب میں برابر ہونا دوسرے مسلمان ہونے میں ، تیسرے دینداری میں، چوتھے عمر میں، پانچویں پیشے میں مسئلہ نمبر ۳: نسب میں برابری تو یہ ہے کہ شیخ ، سید ، انصاری اور علوی یہ سب ایک دوسرے کے ہیں اگر چہ سیدوں کو رتبہ اوروں سے بڑھ کر ہے لیکن اگر سید کی لڑکی شیخ کے یہاں بیاہی گئی تو یہ نہ کہیں گے کہ اپنے میل میں نکاح نہیں ہوا بلکہ یہ بھی میل ہی ہے۔مسئلہ نمبر ۴: نسب میں اعتبار باپ کا ہے ماں کا کچھ اعتبار نہیں اگر باپ سید ہو تو لڑکا بھی سید ہے اگر باپ شیخ ہے تو لڑ کا بھی شیخ ہے ماں چاہے جیسی ہو اگر کسی سید نے کوئی باہر کی عورت گھر میں ڈال لی اور اس سے نکاح کر لیا تو لڑ کے سیّد ہوئے اور باعث شرع ( شرع دیو بندی ناقل ) سب ایک ہی میل کے کہلائیں گے۔مسئلہ نمبر ۵: مغل پٹھان سب ایک قوم ہیں اور سیدوں کے ٹکر کے نہیں اگر شیخ یا سید کی لڑکی ان کے ہاں بیاہ گئی تو کہیں گے کہ بے میل اور گھٹ کر نکاح ہوا۔مسئلہ نمبر ۶: مسلمان ہونے میں برابری کا اعتبار فقط مغل پٹھان وغیرہ اور قوموں میں ہے شیخوں ، سیدوں ، علویوں اور انصاریوں میں اس کا کچھ اعتبار نہیں تو جو شخص خود مسلمان ہو گیا اور اس کا باپ کا فر تھا وہ شخص اس عورت کے برابر نہیں جو خود بھی مسلمان ہے اور اس کا باپ بھی مسلمان تھا اور جو شخص خود بھی مسلمان اور اس کا باپ بھی مسلمان ہے لیکن اس کا دادا مسلمان نہیں وہ اس عورت کے برابر نہیں جس کا دادا بھی مسلمان ہے۔51