دیوبندی چالوں سے بچئے

by Other Authors

Page 52 of 62

دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 52

مسئلہ نمبر ے پیشہ میں برابری یہ ہے کہ جلا ہے درزی کے میل اور جوڑ کے نہیں اسی طرح نائی دھوبی وغیرہ بھی درزی کے برابر کے نہیں“۔دینی مسائل کتاب النکاح مكتبه الحسنات دہلی صفحه ۳۰۳-۳۰۵) مذکورہ مسائل میں دیو بندیوں کے مجد دالملت نے مسلمانوں کو ذات پات برادری کے لحاظ سے اونچا اور نیچا ثابت کیا ہے۔یعنی (۱) - سید، شیخ علوی اور انصاری اونچی ذات کے ہیں اور مغل و پٹھان نیچی ذات کے ہیں اب چاہے کوئی مغل یا پٹھان کتنا ہی دیندار ہو اور مخلص ہو اور ایک سید اور علوی خواہ کتناہی بدعمل ہو مغل اور پٹھان بہر حال سید ، علوی اور انصاری سے نیچے درجے کا کہلائے گا۔(۲) اسی طرح مسئلہ نمبر ۶ کے مطابق جو لوگ اپنے دادوں کے مسلمان ہونے کی وجہ سے پیدائشی مسلمان ہیں وہ ہر صورت میں ان لوگوں کی نسبت جو بعد میں خود ایمان لائے افضل و مکرم و محترم قرار پائیں گے گویا سید علوی انصاری کے گھر میں پید اہوناد یو بندی کے نزدیک افضلیت کی نشانی ہے۔واہ دیو بند یو ! تم نے اسلام میں نئے شامل ہونے والوں کی خوب حوصلہ افزائی کی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ تم نئے اسلام قبول کرنے والوں کی کیا حوصلہ افزائی کرو گے تمہارے نزدیک تو دیو بندیوں کے علاوہ باقی بنے بنائے مسلمانوں کو بھی کافر کہنا بڑے ثواب کا کام ہے۔اسی طرح مسئلہ نمبرے میں پیشے کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کو اونچا درجے کا اور گھٹیا درجے کا قرار دیا گیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ دیو بندیوں کے مجددالملت مولانا اشرف علی تھانوی ہندؤں کی منوسمرتی سے بے حد متاثر ہیں اور قرآن مجید کو چھوڑ کر ہندؤں کی منوسمرتی کو مسلمانوں پر لاگو کرنے کے لئے بے تاب ہیں منوسمرتی میں بھی صاف لکھا ہے کہ انسان پیدائش کے اعتبار سے افضل و غیر افضل ہوتا ہے منوسمرتی بتاتی ہے کہ پیدائشی ہند کا فضل ہیں اور بعد میں ہندو دھرم میں 52 59