دیوبندی چالوں سے بچئے

by Other Authors

Page 38 of 62

دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 38

سیراب کریں گے جو عقیدہ کے لحاظ سے ان کے قریب ہے اور ہوا بھی یہی ہے کہ ان دیو بندیوں نے نہ صرف انگریزوں کی ہر طرح مدد کی ہے بلکہ انگریزوں سے طرح طرح کے فائدے بھی حاصل کئے ہیں جنہیں چھپانے کے لئے اب یہ احمدیوں کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا کہتے ہیں دار العلوم دیو بند کے رسالہ ”دیو بند کی سیر اور اس کی مختصر تاریخ ، مطبوعہ یکم ستمبر ۱۹۱۷ ء پر نٹنگ ورکس دہلی میں لکھا ہے۔ہر مومن مسلمان سے استدعا ہے کہ وہ گورنمنٹ عالیہ کے لئے جس کی عہد حکومت میں ہر فرد بشر نہایت عیش و آرام سے زندگی بسر کر رہا ہے اور اس کی عطا کردہ آزادی اسلامی چمنستان سرسبز و بار آور ہے ضرور دن رات اُٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے غرض، ہرلمحہ اور ہر ساعت میں دُعا کریں کہ اے خدا تو ہمیشہ ہمیش کے لئے ( حکومت انگریز کو ) مسند حکومت پر قائم 66 رکھ۔" یہ ہیں دیو بندی مولویوں کی انگریزی حکومت کی وفاداریوں کے اعلان اور ایسے اعلان کیوں نہ ہوتے جبکہ یہ اس حکومت کے تحت نہایت عیش و آرام سے زندگی بسر کر رہے تھے اس کی چند مثالیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :- (1) - با قاعدہ اس غرض کے لئے دیو بندیوں کو تنخواہیں ملتی تھیں کہ وہ انگریزی حکومت کی موافقت واعانت میں آواز میں اُٹھائیں۔سوانح حیات مولانا محمد احسن نانوتوی جسے مکتبہ ثانیہ کراچی پاکستان نے شائع کیا ہے میں مؤلف کتاب نے اخبار انجمن پنجاب لاہور بحریہ ۱۹ فروری ۱۸۷۵ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ۳۱ جنوری ۱۸۷۵ء بروز یکشنب لفٹنٹ گورنر کے ایک خفیہ معتمد انگریز مسمی پامر نے مدرسہ دیو بند کا معائنہ کیا اس کا ذکر کرتے ہوئے کتاب میں لکھا ہے:- جو کام بڑے بڑے کالجوں میں ہزاروں روپیہ کے صرف سے ہوتا ہے وہ یہاں 38