دیوبندی چالوں سے بچئے

by Other Authors

Page 26 of 62

دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 26

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو گزشتہ حوالوں کی بناء پر نہ کہ اپنی طرف سے ایک بات بیان فرمائی ہے کہ صرف شک کی بناء پر کسی حلال چیز کو حرام نہیں قرار دیا جاسکتا (1) مذکورہ کتاب میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام پر ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ روضہ مبارکہ کی توہین کی ہے رسالہ مذکورہ لکھتا ہے۔اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپنے کے لئے ایک ایسا نیچ استھان دیا جو بد بودار تنگ و تاریک ( اندھیرا) پشوؤں کے لگنے موتنے کا تھا“۔( خزائن جلد نمبر ۱۷ صفحه ۲۰۵) یہ حوالہ سراسر بناوٹی ہے ایسا کوئی حوالہ حضور علیہ السلام کی کسی کتاب میں نہیں ہے۔دراصل حضور علیہ السلام نے اس جگہ روضہ مبارکہ کا نہیں بلکہ غار ثور کا ذکر فرمایا ہے جس میں ہجرت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر چھپے تھے۔ہم ذیل میں اصل حوالہ لکھ دیتے ہیں قارئین خود ہی اصل حقیقت معلوم فرمالیں اس سے صاف اندازہ ہو جائے گا کہ دیو بندی صرف اشتعال پھیلانے کے لئے ایسے حوالے توڑ مروڑ کر اور جھوٹے رنگ میں لکھتے ہیں ان کے جھوٹ کی قلعی تو خودان کے دئے گئے حوالوں سے بھی گھل جاتی ہے جہاں لکھا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپنے کے لئے اب ظاہر ہے کہ آپ روضہ شریف میں چھپے ہوئے نہیں تھے بلکہ دشمنوں کی بڑی تدبیر سے بچنے کے لئے غار ثور میں چھپے تھے۔دراصل چورا اپنی چوری کے کہیں نہ کہیں قدم چھوڑ ہی جاتا ہے جس سے وہ پکڑا جاتا ہے اگر دیوبندی نے حوالہ کو توڑ مروڑا تھا تو اس میں سے چھپنے کا لفظ بھی نکال دیتا تو جھوٹ مکمل ہو جاتا۔اصل حوالہ یوں ہے۔26 26