دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 25
حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک لمبے خط کی چھوٹی سی عبارت ہے جب تک تمام خط نہ پڑھا جائے یہ عبارت حل نہیں ہو سکتی۔اب ہم بتاتے ہیں کہ دیو بندی نے صرف اور صرف اشتعال دلانے کے لئے جھوٹ بولا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جولکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی حلال چیز کو محض شک کی بناء پر حرام قرار نہیں دیا جاسکتا۔بعض باتیں بعض قوموں کو مد نظر رکھ کر مشہور ہو جاتی ہیں مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایک قسم کے پنیر کے متعلق یہ مشہور تھا کہ چونکہ اسے عیسائی بناتے ہیں اس لئے ضرور اس میں سور کی چربی ملاتے ہوں گے حالانکہ یہ بات غلط تھی اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پنیر کوخود کھا کر یہ ثابت فرما دیا کہ سنی سنائی بات پر عمل ضروری نہیں۔چنانچہ حضرت شیخ زین الدین بن عبد العزیز اپنی کتاب فتح المعین شرح قرة العین میں زیر عنوان باب الصلوۃ مطبوعہ مصر مؤلفہ ۹۸۲ھ میں لکھتے ہیں وَجُوخٌ إشتهر عَمَلُهُ بلحم الخنزير وَجُبْن شَامِي اشتهر عمله بالفحه الخنزير وقد جَاءَ ہ صلی اللہ علیہ وسلم جبنه من عندهم وَلَمْ يَسئل عن ذلك ذكره شيخنا فى المنهاج ترجمہ: اور جوخ جو مشہور ہے بنانا اس کا ساتھ چربی سؤر کے اور پنیر شام کا جو مشہور ہے بنانا اس کا ساتھ پنیر مائع سؤر کے اور آیا جناب سرور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پنیر ان کے پاس سے پس کھا یا آنحضرت نے اس سے اور نہ پوچھا اس سے ( یعنی اس کی بابت )۔‘“ مذکورہ ترجمه رسالہ اظہار الحق درباره جواز طعام اہل کتاب سے لیا گیا ہے جو ۱۸۷۵ء میں مذکورہ بالا حدیث کی بنیاد پر ہوشیار پور کے قائمقام اکسٹر اسسٹنٹ کمشنر جناب خان احمد شاہ صاحب نے شائع کیا اس رسالہ یا فتویٰ پر شیخ الکل مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی اور کئی دیگر علماء غیر مقلدین کی مہریں ثبت ہیں۔25 25