دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 27
ہم بار بالکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کو اتنی بڑی خصوصیت آسمان پر زندہ چڑھنے اور اتنی مدت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اُترنے کی جو دی گئی ہے اس کے ہر پہلو سے ہمارے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک بڑا تعلق جس کا کوئی حد و حساب نہیں حضرت مسیح سے ہی ثابت ہوتا ہے مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سو برس تک بھی عمر نہیں پہنچی مگر حضرت مسیح اب تک دو ہزار برس سے زندہ موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ( غار ثور میں چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا سکان ہے بلا لیا اب بتلاؤ محبت کس سے زیادہ کی ؟ عزت کس کو زیادہ کی ؟ قرب کا مکان کس کو دیا؟ اور پھر دوبارہ آنے کا شرف کس کو بخشا ؟“ ( حاشیہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۱۹ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۷ صفحه ۲۰۵) ہم نے اصل حوالہ کے ساتھ عبارت لکھ دی ہے دیو بندی نے حوالہ تو ٹھیک لکھا تھا لیکن یہودیوں کی طرح تحریف کرتے ہوئے عبارت تو ڑ مروڑ کرلکھی ہے۔اب اے دیو بند یو! سچ بتاؤ کہ اس عبارت میں روضہ مبارک کی تو ہین کا ذکر کہاں ہے۔حضور تو سمجھا رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اُٹھانے کا عقیدہ رکھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت تو ہین ہے۔یہ دیو بندی تو خود روضے کی توہین کرنے والے ہیں یہ بھلا روضے کی کیا عزت کریں گے ہم ابھی اوپر ایک حوالہ درج کر آئے ہیں جس میں دیو بندی بزرگ لکھتے ہیں کہ میں جہاں رہوں وہیں روضہ ہے اب حقیقت یہ ہے کہ یہ دیو بندی بزرگ اپنی زندگی میں پتہ نہیں کس کس حالت میں ہوتے تھے اور کیا ان کی زندگی کی تمام حالتوں کو روضہ مبارک سے تشبیہ دی جاسکتی ہے قارئین خود ہی گہری نظر سے سوچ لیں؟ اسی طرح ہم اس سے قبل یہ بھی تحریر کر آئے ہیں کہ دراصل دیو بندی کے نزدیک تو روضہ 27