دیوبندی چالوں سے بچئے

by Other Authors

Page 54 of 62

دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 54

دیو بندی علماء تو غفلت کے لحافوں سے باہر آنے کے لئے تیار نہیں انہیں اپنی کمائیوں سے تعویذ گنڈوں سے فرصت نہیں کہ یہ آنکھیں کھول کر دیکھ سکیں کہ اس وقت مسلمان کس دور اور مصیبت کے عالم میں زندگی بسر کر رہے ہیں ورنہ خود بھی ایسے واقعات آنکھوں سے دیکھ لیں ہم نے تو خود ہندوستان کے طول و عرض میں گھوم کر ان دردناک واقعات کا مشاہدہ کیا ہے کہ کس طرح کئی خاندان اس دیو بندی تعلیم کی وجہ سے اسلام کو ہی خیر باد کہہ گئے۔چنانچہ ذیل میں ایسا ہی ایک واقعہ مرکز مکتبہ اسلامی دہلی سے شائع ہونے والی کتاب ” آپ کی الجھنیں اور ان کا حل صفحہ ۶۶ صفحہ ۶۷ سے درج کیا جاتا ہے جس میں مؤلف کتاب عمر افضل ایم اے لکھتے ہیں :۔بھو پال جیسے شہر کا تذکرہ ہے جو خاصے عرصہ تک مسلم تہذیب و تمدن کا گہوارا رہا ہے اس شہر میں ۱۶ / اپریل ۱۹۷۳ ء کو محلہ جہانگیر آباد کے گرجا گھر کے سامنے ایک تانگہ آکر رُکا جس میں ایک مسلمان مرد، ان کی اہلیہ، دو جوان لڑکیاں اور لڑکے سوار تھے مسلمانوں میں ذات پات کی لعنت نے جس طرح رواج پالیا اس سے تنگ آکر پورے خاندان نے فیصلہ کر لیا وہ عیسائی ہو جائیں گے۔اتفاقاً اس وقت ایک شناسا وہاں سے گزرے جب انہوں نے دریافت کیا کہ کہاں کا ارادہ ہے تو پورا مسلمان خاندان رو پڑا انہوں نے بتایا کہ اپنے مسلمان بھائیوں خصوصاً پڑوسیوں کے سلوک سے تنگ آکر انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر عیسائی مذہب اختیار کرلیں۔ان کی ایک لڑکی جوان ہو چکی تھی اور اس کی شادی کے سلسلہ میں وہ سخت پریشان تھے بڑی دوڑ بھاگ کے بعد جب کہیں سے کوئی پیغام آتا تو پڑوسی مسلمان یہ کہہ کر پیغام دینے والوں کو بھڑکا دیتے کہ لڑکی کا خاندان تو نائی برادری سے تعلق رکھتا ہے۔حالانکہ وہ اپنی شرافت اور رہن سہن میں بہت سے متوسط شرفاء کے خاندانوں سے بہتر تھا۔اور اب اس پیشہ سے عرصہ 54