دیوبندی چالوں سے بچئے

by Other Authors

Page 55 of 62

دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 55

سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔“ یہ بات صرف شادی بیاہ تک محدود نہیں ہے اس دیو بندی تفریق کا نتیجہ یہاں تک نکلا ہے کہ خود مسلمانوں میں بھی چھوٹی ذات کے کہلائے جانے والے مسلمانوں کے گھروں سے پانی تک نہیں پیا جا تا کھانا نہیں کھایا جا تا ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام سے بدتر سمجھا جاتا ہے راقم الحروف نے دیو بندی تفریق کے یہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں آندھرا پردیش میں ترکل مسلمان اپنے آپ کو پتھر پھوڑ اور دھنگی مسلمانوں سے افضل سمجھتے ہیں اور ان کے گھروں میں کھانا کھانا یا ان کا ذبیحہ کھانا ہر گز پسند نہیں کرتے یہاں تک کہ ان چھوٹی ذات کے مسلمانوں کو تر کل مسلمان جو مکمل طور پر دیوبندی ملاؤں کے زیر اثر ہیں اپنی مساجد میں نماز بھی نہیں پڑھنے دیتے اور یہ چھوٹی ذات کے کہلائے جانے والے غریب مسلمان خود اس قدر احساس کمتری کا شکار ہیں کہ اپنے کھانے کے لئے بھی کلمہ پڑھ کر جانور ذبح نہیں کر سکتے اس پر بھی ترکلوں کی اجارہ داری ہے۔یہی حال پنجاب ہریانہ میں بھی دیکھا ہے جہاں آج بھی وہ بے آباد مسجد میں موجود ہیں جن کے متعلق مشہور ہے کہ یہ فلاں قوم کے مسلمانوں کی مسجد ہے ایک ہی گاؤں میں ووقوموں کے مسلمان ایک مسجد میں اکھٹا ہو کر سجدہ ریز نہیں ہو سکتے اور یہ صرف اور صرف اس دیو بندی تعلیم کے نتیجہ میں ہے کہ فلاں قوم فلاں قوم کے برابر نہیں اور فلاں قوم فلاں قوم کے میل کی نہیں۔کیا سرور کائنات حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی اسلام دیا تھا جس کی تشہیر آج یہ دیو بندی کر رہے ہیں؟ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے آزاد کردہ غلام سے ، جی ہاں وہ غلام جن کو عربوں میں سب سے ذلیل ترین قوم سمجھا جاتا تھا اور جن کے ساتھ جانوروں کی طرح کا سلوک کیا جاتا تھا اپنی بہن کی شادی کر دی تھی۔حضرت بلال ایک نہایت ہی غریب کالے رنگ کے اور حبشی مسلمان تھے جب ان کو رشتہ کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہیں اپنے لئے 55 55