دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 30 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 30

30 ادا کرے اور جو پہلی اس کے ذمہ تھی اس کو پیچھے ڈال دے۔۲۱۔اگر کسی وقت امام دو نمازوں کو جمع کرے اور نمازی کو علم نہ ہو کہ کونسی ہے اور وہ جماعت میں شامل ہو جائے تو اس کی وہ نماز ہوگی جو امام کی تھی اور دوسری نماز بعد میں پڑھے۔مثلاً اگر امام عصر کی نماز پڑھ رہا تھا اور نمازی اُسے ظہر سمجھ کر اس میں شریک ہوا تو وہ اس کی بھی عصر کی نماز ہوگی اور ظہر کی قضاء وہ بعد میں ادا کرے گا۔لیکن اگر نمازی کو علم ہو جائے کہ امام عصر پڑھ رہا ہے تو اُسے ظہر بہر حال پہلے پڑھنی چاہئے اور پھر بعد میں عصر میں شریک ہو۔۲۲۔اگر کوئی مقتدی سنتیں پڑھ رہا ہو اور اس اثناء میں نماز کھڑی ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ فور اسلام پھیر کر نماز با جماعت میں شامل ہو جائے اور سنتیں بعد میں پڑھ لے۔۲۳۔اگر امام چار رکعت پڑھا رہا ہو اور وہ درمیانی تشہد بھول کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہونے لگے تو سیدھا کھڑے ہونے سے پہلے یاد آنے پر وہ تشہد میں بیٹھ جائے تو سجدہ سہو کی ضرورت نہیں۔لیکن اگر وہ تیسری رکعت کے لئے پورا کھڑا ہو گیا ہے تو تشہد کے لئے نہ بیٹھے بلکہ تیسری رکعت پڑھے اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔جو شخص دو رکعت پڑھ رہا تھا بھول کر تیسری کے لئے کھڑا ہو گیا اور بعد میں اسے یاد آ گیا کہ وہ نماز پوری کر چکا ہے تو وہ اسی وقت بیٹھ جائے اور تشہد پڑھے اور اپنی نماز پوری کرے۔لیکن اگر اس نے تیسری رکعت کا رکوع کر لیا اور پھر یاد آیا تو وہ فوراً تشہد