دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 71 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 71

71 اعتراض دور ہو گیا۔لیکن جسمانی ابوت کے انکار سے دو اور شبہات پیدا ہو سکتے تھے۔اول یہ کہ بوجہ نبی ہونے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کو مومنوں کا باپ قرار دیا گیا تھا۔لیکن جب یہ کہا گیا کہ آپ کسی مرد کے باپ نہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر آپ کی نبوت ورسالت بھی جاری ہے یا نہیں؟ دوم یہ کہ آپ کی نرینہ اولاد نہ ہونے کے باعث دشمن آپ کو ابتر کہتا تھا۔اب اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے باپ نہیں تو کیا واقعی (نعوذ باللہ ) آپ ابتر مہرے؟ ان ہر دو اعتراضات کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلكِن رَّسُولَ اللهِ۔جسمانی ابوت کی نفی سے یہ نہ سمجھنا کہ آپ روحانی لحاظ سے باپ نہیں رہے۔اللہ کا رسول ہونے کے لحاظ سے آپ مومنین کے روحانی باپ بدستور ہیں جس طرح ہر نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے۔نہ صرف اس قدر بلکہ آپ کا مقام اور مرتبہ دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں بہت بلند و بالا ہے اور آپ خاتم النبیین ہیں۔یعنی نبیوں کی مہر ہیں۔آپ کی تصدیق اور آپ کی تعلیم کی شہادت کے بغیر کوئی شخص نبوت یا ولایت کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔اس آیت خَاتَمَ النَّبِيِّن میں خَاتَمَ ( تا ء کی زبر کے ساتھ ) کے معنی ختم کرنے والا نہیں ہو سکتے۔اگر یہاں خاتم ( تاء کی زیر کے ساتھ ) ہوتا تو ختم کرنے والا کے معنی ہو سکتے تھے لیکن یہاں (ت) پر زبر ہے۔جب حاتم ( تاء کی زبر کے ساتھ ) کسی صیغے کے ساتھ استعمال ہو تو اس کے معنی ہمیشہ افضل“ کے ہوتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں خَاتَمُ الْاَوْلِيَاء خَاتَمُ المحدّثين۔خَاتَمُ