دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 72 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 72

72 الشعراء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کے لئے خَاتَمُ الْأَوْلِيَاء کے الفاظ استعمال کئے ہیں ( تفسیر صافی زیر آیت خاتم النبیین ) تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت علیؓ کے بعد کوئی ولی نہیں ہوسکتا۔پس محاورہ عرب کے مطابق خاتم النبین کے ایک معنی یہ ہوئے کہ تمام انبیاء سے افضل یا ایسا وجود جس پر کمالات نبوت ختم ہو گئے اور وہ اپنے کمال میں بے مثال ٹھہرا۔غرض اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیشک جسمانی لحاظ سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں لیکن روحانی لحاظ سے بحیثیت رسول آپ سب مومنوں کے باپ ہیں۔نہ صرف مومنوں کے باپ ہیں بلکہ روحانی لحاظ سے تمام انبیاء کے بھی باپ ہیں۔آپ کا محمد ( یعنی قابل تعریف وجود ) ہونا اس بات کا محتاج نہیں کہ آپ کی جسمانی اولاد ہو بلکہ آپ محمد میں رسول اللہ ہونے کے لحاظ سے اور خاتم انبیین ہونے کے لحاظ سے۔واضح رہے کہ رسول اللہ ہونے کے لحاظ سے ہر نبی امت کا باپ ہوتا ہے۔جو چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوسب سے ممتاز کرتی ہے وہ آپ کا خاتم ہونا ہے۔یعنی آپ تمام انبیاء سے بلحاظ مقام ومرتبہ افضل واعلیٰ ہیں۔دوسرے آپ کی قوت قدسیہ اور روحانی توجہ نہیں تراش ہے۔یعنی آپ کی تعلیم پر عمل کرنے اور آپ کی کامل پیروی سے انسان نبوت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے اور یہ خوبی آپ سے قبل کسی نبی کو حاصل نہیں تھی۔خاتم انہین کے اس مفہوم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں بیان فرماتے ہیں۔