دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 70
70 منہ بولے بیٹے تھے۔جب حضور نے زید کی مطلقہ ( یعنی حضرت زینب) سے نکاح کیا تو کفار اور منافقین نے اعتراض کیا کہ آپ نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا جو کسی طرح درست نہیں۔اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ کسی کو بیٹا کہہ دینے سے وہ بیٹا نہیں بن جاتا۔حرمت تو حقیقی بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنے میں ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حقیقی بیٹا نہیں۔اس لئے حضرت زینب سے نکاح پر اعتراض غلط ہے۔سورۃ احزاب کی آیت سے میں یہ کہا گیا تھا کہ النَّبِيُّ أول بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُة أنهتهم، یعنی نبی مومنوں سے ان کی اپنی جانوں کی نسبت بھی زیادہ قریب ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔نبی کی بیویوں کو ماں قرار دینے سے کوئی شخص یہ استدلال کر سکتا ہے کہ نبی اور مومنین کا رشتہ باپ بیٹے کا ہوا ایسی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زیڈ کی مطلقہ (حضرت زینب) سے نکاح کرنا اپنی بہو سے نکاح کرنے کے مترادف ہے۔اس اعتراض کو دور کرنے کیلئے فرمایا ما كانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ یعنی (جسمانی لحاظ سے ) نہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تم میں سے کسی مرد کے باپ تھے نہ ہیں (اور نہ ہوں گے ) لہذا زیڈ کے طلاق دینے کے بعد حضرت ب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کسی طرح بھی قابل اعتراض آیت خاتم النبیین کے پہلے ٹکڑے سے بے شک بہو سے نکاح کرنے کا