دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 293
293 ہے۔جنگیں اور قیام امن کے نام پر کی جانے والی کارروائیاں قوموں کو علامی جنگ کی طرف دھکیلتی نظر آتی ہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ لالچ دشمنیوں کو بڑھاتا ہے۔اس کا اظہار بعض دفعہ سرحدی پھیلاؤ کے ذریعے لیے دوسری قوموں کے قدرتی ذخائر پر نا جائز تصرف یا پھر ملکوں کے حکمرانوں پر تسلط کے ذریعہ دیکھنے میں آتا ہے۔ان ذرائع سے مظالم وجود میں آتے ہیں۔آنحضرت نے فرمایا کہ مظلوم اور ظالم دونوں کی مدد کرو۔صحابہ کے دریافت کرنے پر فر مایا کہ ظالم کا ہاتھ روک کر اس کی مدد کرو کیونکہ ظلم کرنے سے وہ خد کی ناراضگی کا سزاوار ہوگا۔حضور انور نے فرمایا کہ دین حق کی تعلیم کے مطابق انصاف کرنے کے باوجود امن قائم نہ ہو تو سب مل کر زیادتی کرنے والے گروہ سے جنگ کریں یہاں تک کہ وہ ہتھیار ڈال دے۔حضور انور نے طاقتور قوموں کو یاددہانی کرائی کہ اُن کے ہاتھ میں ویٹو کی طاقت ہوتی ہے۔انہیں چاہئے کہ وہ قیام امن کو بہر حال مد نظر رکھیں۔حضور انور نے فرمایا دوسروں کی دولت کے لئے حرص کرنا اور حسد کرنا دنیا میں بے چینی کو بڑھانے اور امن کو خطرے میں ڈالنے کا سبب ہیں۔سرحدی چڑھائیاں کر کے دوسروں کے قدرتی ذخائر پر دسترس حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بعض دفعہ طاقتور قو میں اثر و رسوخ کے بل بوتے پر دوسری قوموں کے مقابل میں دھڑے بنا کر ان کے وسائل اپنے اختیار میں لے لیتی ہیں۔