دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 294 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 294

294 حضور انور نے فرمایا کہ غریب ممالک میں بھی ایسے افراد پائے جاتے ہیں جنہیں بعض علمی میدانوں میں اعلیٰ درجہ کی برتری حاصل ہو جاتی ہے۔ان حالات میں توقع یہ ہونی چاہئے تھی کہ تمام قو میں مل کر کوشش کریں اور اُن غلطیوں سے باز رہیں جن سے ماضی میں خوفناک جنگیں ہوئیں۔انسان کی با ہمی فلاح و بہبود کے طریقے تلاش کئے جاتے۔قدرتی وسائل کے بہترین استعمال سے ایک دوسرے کی مدد کی جائے۔اللہ تعالیٰ نے ہر ملک کو مختلف وسائل سے نوازا ہے۔اگر مل جل کر با قاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ جدید تکنیکی سہولتوں کو بروئے کار لایا جاتا تو دنیا سے بھوک کا خاتمہ ہو جاتا۔حضور انور نے فرمایا کہ جن ممالک کو معدنیات کے ذخائر عطا ہوئے ہیں۔ان کو آزادی ہونی چاہئے کہ وہ معقول قیمتوں پر کھلی مارکیٹ میں اپنے ذخیروں کی تجارت کر سکیں۔اس طرح تمام ممالک ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ جزا سزا کاعمل سوت کے بعد ہی واقع ہو گا مگر خدا تعالیٰ نے جو نظام جاری فرمایا ہے اس کے تحت جب مظالم اپنی انتہاؤں کو چھونے لگیں اور عدل وانصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس کے بعض طبیعی نتائج اسی دنیا میں بھی ظاہر ہو جاتے ہیں۔جب ظلم بہت بڑھ جاتا ہے رو عمل بھی شدید ہوتا ہے۔غریب ممالک کو ان کے صحیح منصب پر کھڑا کیا جائے جو اُن کا حق ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ اس وقت عالمی مسائل میں ایک بہت بڑا مسئلہ