دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 226
226 ہے وہ باقی رہ گیا تھا۔مجھے خدا نے یہ توجہ دلائی کہ میں آپ کو بتا دوں کہ آئندہ دو سال کے اندر یہ عہد کر لیں جس کو بھی جو اولاد نصیب ہوگی وہ خدا کے حضور پیش کر دئے“۔اس تسلسل میں حضور نے بچوں کے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا:۔بچپن ہی سے ان کی اعلیٰ تربیت کرنی شروع کر دیں اور اعلیٰ تربیت کے ساتھ ان کو بچپن ہی سے اس بات پر آمادہ کرنا شروع کریں کہ تم ایک عظیم مقصد کیلئے ایک عظیم الشان وقت میں پیدا ہوئے ہو جب کہ غلبہ اسلام کی ایک صدی غلبہ اسلام کی دوسری صدی سے مل گئی ہے۔اس سنگم پر تمہاری پیدائش ہوئی ہے اور اس نیت اور دعا کے ساتھ ہم نے تجھ کو مانگا تھا خدا سے کہ اے خدا! تو آئندہ نسلوں کی تربیت کے لئے ان کو عظیم الشان مجاہد بنا۔اگر اس طرح دعائیں کرتے ہوئے لوگ اپنے آئندہ بچوں کو وقف کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ ایک بہت ہی حسین اور بہت ہی پیاری نسل ہماری آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے اپنے آپ کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کیلئے تیار ہو جائے گی“۔۱۱۰ فروری ۱۹۸۹ء کو بیت الفضل لندن میں خطبہ دیتے ہوئے حضور نے واقفین کی تربیت کیلئے مفصل ہدایات دیں جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔