دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 155 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 155

155 منتخب کر لیں۔وہ چھ افراد یہ تھے۔حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص۔اکثر صحابہ کی رائے حضرت عثمان کے حق میں تھی اس لئے ان کے انتخاب کا اعلان کر دیا گیا۔حضرت عثمان کے عہد میں فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔آرمینیہ، افریقہ اور قبرص کے علاقے سلطنت میں شامل ہوئے اسی طرح وسط ایشیا کے بہت سے علاقے فتح ہوئے۔گویا سلطنت کی حدود وسط ایشیا سے لے کر شمالی افریقہ کے مغربی کنارے تک پھیل گئیں۔فتوحات کے ساتھ ساتھ استحکام سلطنت کا کام بھی جاری رہا۔بحری فوج اور بیڑے کا قیام بھی حضرت عثمان کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے قرآن کریم کی حفاظت کے پیش نظر حضرت ابوبکر والے نسخہ کی نقول تیار کروائیں اور ان کی اشاعت سارے عالم اسلامی میں کی اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ بعض علاقوں میں اختلاف قرآت دیکھا گیا۔اہل بصرہ ، اہلِ کوفہ، اہل حمص آیات کو الگ الگ رنگ میں پڑھتے۔حضرت عثمان نے اہل مکہ کی قرآت کو بہترین قرار دیا اور اسی کے مطابق قرآن کریم کی کتابت کی گئی اور قریش کا رسم الخط اختیار کیا گیا عرب کے مختلف علاقوں نیز غیر عرب قوموں کے میل جول کے باعث لب ولہجہ اور قرآت کے فرق سے یہ اندیشہ ہو سکتا تھا کہ کہیں تحریف کا راستہ نہ کھل جائے۔حضرت عثمان نے ہمیشہ کے لئے اس راستہ کو مسدود کر دیا۔