دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 154
154 ایثار و قربانی حضرت عثمان بڑے فیاض و سخی تھے۔مالی جہاد میں پیش پیش رہتے۔آپ کی دولت سے مسلمانوں کو بڑا فائدہ پہنچا۔مدینہ میں میٹھے پانی کا ایک کنواں تھا جو ایک یہودی کی ملکیت تھا آپ نے مسلمانوں کی تکلیف دیکھ کر بیس ہزار درہم میں وہ کنواں خرید لیا اور مسلمانوں کیلئے وقف کر دیا۔جنگ تبوک کے موقعہ پر دس ہزار دینار نقد کے علاوہ ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے مع ساز وسامان پیش کئے۔جنگ بدر کے علاوہ تمام جنگوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔جنگ بدر کے موقعہ پر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بموجب پیچھے رہے۔صلح حدیبیہ کے موقعہ پر حضرت عثمان بطور سفیر قریش مکہ کے پاس بھیجے گئے اور جب آپ کی شہادت کی افواہ اڑائی گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کوان کا ہاتھ قرار دے کر ان کی طرف سے بیعت قبول کی اور دوسرے صحابہؓ نے بھی از سرِ نو عہدِ وفا باندھا اسی کو بیعت رضوان کہتے ہیں۔حضرت عثمان ان دس صحابہ میں سے ایک تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں جنت کی بشارت دی اور عشرہ مبشرہ کہلاتے ہیں۔عہد خلافت حضرت عمر نے وفات سے قبل چھ صحابہ کو نامزد کیا اور فرمایا کہ میری وفات کے بعد آپس میں مشورہ کر کے یہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر المومنین