دینی نصاب — Page 118
پکارے گئے ہوں یا کسی بزرگ نے بچپن میں آپ کا یہ نام رکھا ہو۔اس لئے اس شبہ کا سوائے اس کے اور کیا جواب ہو سکتا ہے کہ یہ کہا جاوے کہ آپ کے اندر صفت احمدیت پائی جاتی تھی اور یہ کہ آسمان پر آپ کا نام احمد بھی تھا جیسا کہ آسمان پر یحی کا نام الیاس بھی تھا؟ ان دو مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ پیشگوئیوں میں جو نام بتائے جاتے ہیں وہ لازماً ظاہر میں پائے جانے ضروری نہیں ہوتے بلکہ عموماً وہ صفاتی نام ہوتے ہیں اور کسی باطنی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔اس میں بھید یہ ہے کہ خدا کوحقیقت اشیاء سے تعلق ہے ان کے ظاہری ناموں سے تعلق نہیں۔لوگ بے شک عرف کی خاطر ظاہری ناموں کا لحاظ رکھتے ہیں مگر خدا کی نظر میں اصل نام صفاتی نام ہی ہوتا ہے نہ کہ ظاہری نام۔اب سوال ہوتا ہے کہ پھر وہ کونسی حکمت ہے جس کی وجہ سے خدا نے آنے والے مسیح کو ابن مریم کے نام سے موسوم کیا؟ اس کے جواب میں کئی باتیں پیش کی جاسکتی ہیں مگر اس مختصر سے رسالے میں سب کا لکھنا موجب طوالت ہوگا۔اسلئے چند موٹی موٹی حکمتوں کے بیان کرنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔اوّل یہ کہ آنے والا مسیح حضرت عیسی کی خُو بو پر آنا تھا جس طرح حضرت الیاس کی خُو بُو پر حضرت یمی آئے۔پس جس طرح حضرت یحیی کے آنے سے حضرت الیاس کی آمد کا وعدہ پورا ہوا۔اسی طرح کسی مثیل مسیح کی آمد سے حضرت مسیح کی آمد کا وعدہ پورا ہونا تھا۔لہذا اس مشابہت کی وجہ سے موعود مسیح کا نام ابن مریم رکھا گیا۔دوسری حکمت یہ ہے کہ جس طرح مسیح ناصری موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء تھے اسی طرح محمدی مسیح نے محمدی سلسلہ کا خاتم الخلفاء ہونا تھا۔تیسری اور بڑی حکمت یہ ہے کہ قرآن شریف اور احادیث سے ظاہر ہے کہ آخری زمانہ کیلئے یہ مقدر تھا کہ اس میں عیسائیت زور پکڑے گی اور صلیبی مذہب بڑے غلبہ کی حالت میں ہوگا۔اسی 118