دینی نصاب

by Other Authors

Page 119 of 377

دینی نصاب — Page 119

لئے مسیح موعود کا بڑا کام یہ رکھا گیا کہ یکسر الصلیب یعنی مسیح موعود صلیبی مذہب کا زور توڑ دے گا۔اس میں حکمت یہ ہے کہ جب کسی نبی کی امت میں فساد برپا ہوتا ہے تو پھر اخلاقی طور پر اسی نبی کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس فساد کوڈ ورکرے جیسا کہ اگر کسی حکومت میں فساد برپا ہوجاوے تو باہر کی حکومتوں کا فرض نہیں ہوتا کہ وہ اس فساد کو دور کریں بلکہ خود اس حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اسے دُور کرے۔پس چونکہ آخری زمانہ کے موعود کا ایک بڑا کام یہ تھا کہ وہ صلیبی مذہب کے فساد کو دُور کرے گا اس لئے حضرت عیسیٰ کی مماثلت میں آنے والے کا نام عیسی بن مریم اور مسیح رکھا گیا۔بلکہ آخری زمانہ کیلئے تو یہ بھی مقد ر تھا کہ وہ فساد عظیم کا زمانہ ہوگا اور تمام امتوں میں فساد برپا ہو جائے گا۔ایسے وقت کیلئے ضرورت تھی کہ تمام امتوں کی اصلاح کرتے لیکن چونکہ بہت سے مصلحوں کا ایک ہی وقت میں دنیا میں مبعوث ہونا فساد کو دور کرنے کی بجائے فساد کی آگ کو اور بھی بھڑکا دیتا۔پھر علاوہ اس کے چونکہ اب اسلام کی آمد نے تمام روحانی پانی اپنے اندر کھینچ لیا ہے اور اب کوئی روحانی مصلح اسلام کے سوا کسی امت میں ظاہر نہیں ہوسکتا اسلئے یہ مقدر ہوا کہ تمام نبیوں کے بروزوں کو ایک ہی وجود میں اسلام کے اندر مبعوث کیا جاوے۔اس آنے والے مصلح کا کام یہ رکھا گیا کہ وہ تمام امتوں کی اصلاح کرے گویا اس موعود مصلح کا کام دو بڑے حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ایک امت محمدیہ کی اصلاح اور دوسرے باقی تمام امتوں کی اصلاح لیکن چونکہ باقی امتوں کی اصلاح کے کام میں سب سے بڑا کام حضرت مسیح ناصری کی امت کی اصلاح اور اس کے عقائد باطلہ کا رڈ تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یکسر الصلیب سے ظاہر ہے جو آپ نے اس موعود مصلح کے متعلق فرمائے۔اسلئے اس پہلو کے لحاظ سے آنے والے کو خصوصیت کے ساتھ عیسی ابن مریم کا خطاب دیا گیا۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں : چوں مرا نورے پئے قوم مسیحی داده اند مصلحت را ابن مریم نام من بنهاده اند یعنی "چونکہ مجھے مسیحی قوم کی اصلاح کیلئے خاص نور عطا کیا گیا ہے اسلئے اس مصلحت سے 119