دینی نصاب — Page 117
کسی باطنی مشابہت کی طرف اشارہ کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔مثلاً کجا الیاس نبی کا آسمان سے نازل ہونا اور کجا یحیی نبی کا زمین سے پیدا ہونا ! مگر حضرت مسیح یحیی کو ہی الیاس قرار دے رہے ہیں کیونکہ وہ الیاس کی خوبو پر آیا تھا۔یہ مثال اس بات کو بھی واضح کر رہی ہے کہ خدا کے کلام میں جب کسی گذشتہ نبی کے آسمان سے نازل ہونے کی پیشگوئی ہو تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتا کہ وہی گذشتہ نبی آسمان کے پردوں کو پھاڑتا ہواز مین پر اترے گا بلکہ اس سے اس کے کسی مثیل کا آنامراد ہوتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ مسیح کے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ وہ نازل ہوگا تو اس سے خود مسیح کا آسمان سے نازل ہونا مراد نہیں بلکہ کسی مثیل مسیح کا مبعوث ہونا مراد ہے جیسا کہ الیاس نبی کے آسمان سے نازل ہونے سے ایک مثیل الیاس یعنی یحی کا پیدا ہونا مراد تھا۔غرض عیسی ابن مریم کے ظاہری نام پر اڑنا اور صرف اس نام کی وجہ سے آنے والے مسیح کا انکار کر دینا سخت ہلاکت کی راہ ہے جس سے پر ہیز لازم ہے کیونکہ نام ہمیشہ ظاہر میں پائے جانے ضروری نہیں ہوتے بلکہ ان کے اندر معنوی حقیقت مخفی ہوا کرتی ہے۔ایک اور مثال جو معاملہ زیر بحث کو اور بھی واضح کر دیتی ہے یہ ہے کہ قرآن شریف کی سورۃ صف میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی نے ایک ایسے رسول کی خبر دی تھی جو ان کے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔(سورۃ صف رکوع ۱) اب ہمارے مخالف مسلمان سب مانتے ہیں کہ یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث سے پوری ہو چکی ہے لیکن ہر ایک جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل نام محمد تھا نہ کہ احمد۔یہ درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے دعوے کے بعد یہ فرمایا کہ میں احمد بھی ہوں لیکن دعوے کے بعد اس نام کو اپنی طرف منسوب کرنا مخالف پر کسی طرح محبت نہیں ہو سکتا۔مخالف پر تو مجنت تب ہو جب یہ ثابت کیا جاوے کہ واقعی آپ کے بزرگوں کی طرف سے یہ نام آپ کا رکھا گیا تھا یا یہ کہ دعوے سے پہلے آپ اس نام سے پکارے جاتے تھے، لیکن کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آپ دعوئی سے پہلے کبھی اس نام سے 117