دینی نصاب — Page 184
کی طرح گرج رہا تھا۔اتفاق سے ہمارے معزز دوست مفتی محمد صادق صاحب جو چند سال پیشتر امریکہ میں ہمارے مبلغ رہ چکے ہیں وہاں جا پہنچے اور پادری صاحب سے مخاطب ہوکر کہنے لگے که پادری صاحب! آپ یہ کیا باتیں کہتے ہیں؟ ہم تو ان باتوں کو قبول نہیں کرتے اور نہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں بلکہ ہم تو مسیح کو صرف اللہ کا ایک نبی مانتے ہیں جو اپنی عمر گزار کر فوت ہو گیا اور اس میں کوئی ایسی خاص بات نہ تھی جو دوسرے نبیوں میں نہ ہو بلکہ کئی اور نبی اُس سے بڑھے ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔پادری نے مفتی صاحب کی یہ تقریر سنی تو کہنے لگا۔معلوم ہوتا ہے تم قادیانی ہو۔ہم تم سے بات نہیں کرتا اور یہ کہہ کر اسنے اپنی تقریر بند کر دی۔اب دیکھو یہ عقائد کس قدر خطر ناک ہیں مگر حضرت مرزا صاحب نے ان سب کو باطل اور غلط ثابت کر دیا اور قرآن و حدیث سے ثابت کیا کہ یہ سب خیالات بعد کی ملاوٹ ہیں جس کی قرآن اور صحیح احادیث میں کوئی بھی اصل نہیں اور اس طرح آپ نے ایک ہی وار میں دجال کی ایک ٹانگ توڑ دی کیونکہ دجال کی دو ٹانگیں تھی۔ایک ٹانگ تو مسلمانوں کے بگڑے ہوئے خیالات تھے جنکی وجہ سے اُسے سہارا مل گیا تھا اور اسلام کے خلاف کام کرنا بہت آسان ہو گیا تھا اور دوسری ٹانگ خود دجال کے اپنے باطل خیالات تھے۔جن کے زور کی وجہ سے وہ ایک سیلاب کی طرح اُمڈا چلا آتا تھا۔الغرض اسلام کے خلاف جو غیر مذاہب کے حملے ہورہے تھے ان کا ایک بڑا حصہ خود مسلمانوں کے اپنے بگڑے ہوئے خیالات پر مبنی تھا۔چنانچہ ان فاسد خیالات کی مدلل طور پر اصلاح ہو جانے سے بیرونی حملوں کا حصہ بالکل باطل ہو گیا۔یہ ایک بہت بھاری خدمت تھی جو حضرت مرزا صاحب نے انجام دی اور یہ ایک عوف عظ الشان احسان ہے جو آپ نے مسلمانوں پر فرمایا۔اور آپ کے اس فعل سے امت محمدیہ کو دو بڑے فائدے پہنچے۔اول یہ کہ ان باطل اور فاسد خیالات سے خود مسلمانوں کی حالت نہایت ابتر ہو رہی تھی اور ان عقائد نے اُن کے ایمان کے شہتیر کوگھن لگا رکھا تھا۔پس ان عقائد 184