دینی نصاب — Page 185
کی اصلاح سے مسلمانوں کی حالت سنور گئی اور اُنکا ایمان تباہ ہونے سے بچ گیا۔دوسرے یہ کہ ان عقائد کی وجہ سے اسلام غیر مذاہب کے خطرناک حملوں کا نشانہ بنا ہوا تھا یعنی مسلمانوں کے ان باطل خیالات کی وجہ سے خواہ وہ عام تھے یا خاص مسیح ناصری کے متعلق کفار کو اسلام پر حملہ کرنے کا ایک بہت بڑا موقعہ ہاتھ آ گیا تھا اور چونکہ مسلمان ان فاسد خیالات کو اپنے دین و مذہب کا حصہ خیال کرتے تھے اور بزعم خود قرآن و حدیث سے ہی اُن کا استنباط کرتے تھے اسلئے حالت اور بھی خطرناک صورت اختیار کر گئی تھی۔کیونکہ اس صورت میں زدصرف مسلمانوں پر ہی نہ پڑتی تھی بلکہ اسلام پر بھی ایک کاری ضرب لگتی تھی۔مگر ان خیالات کے باطل ثابت۔ہونے سے اسلام اس قسم کے تمام حملوں سے بالکل محفوظ ہو گیا۔فالحمد لله على ذالك مسیح موعود کے اس کام کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ خود دوسرے مذاہب پر حملہ آور ہوکر انہیں مغلوب کیا جاوے سو یہ کام بھی نہایت خیر و خوبی سے انجام پایا اور پارہا ہے۔ہندوستان (اس جگہ تقسیم سے پہلے کا ھندوستان مراد ہے ) مذاہب کا جولانگاہ رہا ہے۔دنیا میں اور کوئی ایسا ملک نہیں جس میں اتنے مذاہب اس زور میں پائے جاتے ہوں جیسا کہ یہاں پائے جاتے ہیں اور پھر ہندوستان میں بھی خصوصاً پنجاب کا صوبہ مذاہب کا مرکز ہے۔عیسائیوں کا یہاں زور ہے۔آریوں کا یہاں زور ہے۔سکھوں کا یہاں زور ہے۔برہمو سماج کا یہاں زور ہے۔دیوسماج کا یہاں زور ہے۔غرض کوئی ایسا مذ ہب نہیں جو زندگی کے کچھ آثار اپنے اندر رکھتا ہو اور پھر پنجاب اس سے خالی ہو۔پس پنجاب ہی اس بات کے مناسب حال تھا کہ مسیح موعود اس میں مبعوث کیا جاوے تاسارے مذاہب اس کے ساتھ اپنا زور آزما کر دیکھ سکیں اور تاوہ سارے مذاہب کا مقابلہ کر کے اُن کو مغلوب کر سکے۔اب جاننا چاہئیے کہ حضرت مرزا صاحب نے ان سب مذاہب پر دونوں رنگ میں حجت پوری کی۔یعنی اول عقل اور نقل کے طریق سے ان کا بطلان ثابت کیا دوسرے خدائی نشانوں اور روحانی طاقتوں کیساتھ انہیں مغلوب اور اسلام کو غالب کر دکھایا۔185