دینی نصاب — Page 62
جو چیز بری ہے وہ حرام ہے اور جو چیز پاک ہے وہ حلال ہے۔خدا تعالیٰ کسی پاک چیز کو حرام قرار نہیں دیتا بلکہ تمام پاک چیزوں کو حلال فرماتا ہے۔ہاں جب پاک چیزوں میں ہی بُری اور گندی چیزیں ملائی جاتی ہیں تو وہ حرام ہو جاتی ہیں۔اب شادی کو دف کے ساتھ شہرت کرنا جائز رکھا گیا ہے لیکن اس میں ناچ وغیرہ شامل ہو گیا تو وہ منع ہو گیا اگر اسی طرح پر کیا جائے۔جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کوئی حرام نہیں ( ملفوظات جلد نهم صفحہ ۴۸۱) ناچ گانا، بینڈ باجے اور آتش بازی بیاہ شادی کی بد رسوم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”ہماری قوم میں ایک یہ بھی بد رسم ہے کہ شادیوں میں صد ہاروپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے۔سو یاد رکھنا چاہیئے کہ مشینی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاتی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا یہ دونوں باتیں عند الشرع حرام ہیں اور آتشبازی چلانا اور رنڈیوں ، بھڑووں، ڈوم ڈھاریوں کو دینا حرام مطلق ہے۔ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے اور گناہ سر پر چڑھتا ہے سو اس کے علاوہ شرع شریف میں تو صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے ولیمہ کرے یعنی چند دوستوں کو کھانا پکا کر کھلا دیوے۔“ ( ملفوظات جلد نهم صفحہ ۴۶۔۴۷) با جا بجانے کے سلسلہ میں فرمایا :- ”باجوں کے وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ تھا۔اعلان نکاح جس میں فسق و فجور نہ ہو جائز ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۳۱۲) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرما یا:- بیاہ شادی کے موقع پر پاکیزہ اشعار عورتیں پڑھ سکتی ہیں۔پڑھنے والی 62