دینی نصاب — Page 61
کچھ شیرینی وغیرہ تقسیم کی جائے تو حرج نہیں لیکن ڈھول دھماکہ، ناچ گانا کسی طرح بھی جائز نہیں۔اسلامی طریق یہ ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کیا جائے یعنی لڑکے کی صورت میں دو بکرے اور لڑ کی کی صورت میں ایک بکرا ذبح کیا جائے۔نومولود کے بال منڈوائے جائیں۔لیکن اگر کسی کو عقیقہ کی توفیق نہیں تو ضروری نہیں۔بچے بالغ ہو کر خود بھی قربانی کر سکتے ہیں۔قربانی کا گوشت غرباء اور عزیز واقارب میں تقسیم کیا جائے۔خود بھی استعمال کر سکتے ہیں۔لڑکا ہو تو ختنہ بھی ساتھ ہی کروادینا مناسب ہے۔سالگرہ منانا : بچوں سے متعلق ایک رسم یہ ہے کہ ہر سال تاریخ پیدائش پر سالگرہ منائی جاتی ہے۔دعوت کا اہتمام ہوتا ہے۔تحفے تحائف پیش کئے جاتے ہیں اور بہت سا روپیہ صرف کیا جاتا ہے۔یہ بدعت اور رسم ہے جس سے اجتناب بہتر ہے۔ناک کان چھدوانا ، بودی رکھنا : بعض لوگ بچوں کے ناک کان چھدواتے اور بالی اور بلاق پہناتے ہیں یا پاؤں میں گھنگھر وڈالتے یا سر پر چوٹی سی رکھتے ہیں۔یہ سب لغو اور غیر اسلامی رسوم ہیں جو غیر قوموں سے مسلمانوں میں آگئی ہیں۔منت کے طور پر جو سر پر بودی رکھتے ہیں اس کے بارے میں استفسار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:- نا جائز ہے ایسا نہیں چاہئے“ شادی بیاہ سے متعلق رسوم دف بجانا:۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔( ملفوظات جلد نم صفحه ۲۱۶) 61