دینی نصاب — Page 46
ہے تو وہ سخت برا کام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔کیونکہ ایک پاک معاہدہ ( نکاح ) کو توڑتا ہے۔طلاق دینے سے قبل غور اور فکر نہایت ضروری ہے۔اسلئے شریعت نے حکم دیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے صلح صفائی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور عورت اور مرد ہر دو کو ہر ممکن طریق سے سمجھانا چاہیئے۔اگر وہ بالکل نہ سمجھیں تو پھر مرد کوطلاق دینی چاہیئے۔طلاق دینے کا یہ طریق ہے کہ مرد اپنی بیوی کو ایام طہر میں طلاق دے۔جس طہر میں اس کے پاس نہ گیا ہو۔قرآن کریم نے مرد کو تین طلاقیں دینے کا حق دیا ہے۔ان تین طلاقوں کا حق یا تو دور جعی اور ایک بائن طلاق کی صورت میں استعمال ہوگا یا تین بائن طلاقوں کی صورت میں جس کی شکل یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دے پھر عدت کے دوران رجوع کرے تو وہ ایک طلاق واقع ہو جائے گی اس کے بعد اگر وہ دوبارہ طلاق رجعی دے اور پھر عدت کے اندر رجوع کرے تو یہ اس کی طرف سے دوسری طلاق واقع شدہ شمار ہو جائے گی۔اب اس کے بعد جب تیسری مرتبہ طلاق دے گا تو وہ ”طلاق بتہ “ ہوگی یعنی عدت کے اندر رجوع کرنے اور عدت کے بعد نکاح کرنے کا حق باقی نہیں رہے گا کیونکہ وہ اپنا طلاق دینے کا حق تین مرتبہ استعمال کر چکا ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق رجعی دے اور عدت کے دوران رجوع نہ کرے اس صورت میں عدت گزرنے کے بعد ایک طلاق بائن ہوگی ( یا مثلاً قبل از رخصتانه طلاق دے جو بائن ہوتی ہے ) اب وہ رجوع تو نہیں کر سکتا مگر دوبارہ نیا نکاح کر سکتا ہے۔اس دوسرے نکاح کے بعد اسے طلاق کا حق تین مرتبہ نہیں بلکہ صرف دومرتبہ حاصل ہوگا لہذا اگر وہ اب طلاق دے اور رجوع نہ کرے اور عدت گزر جائے تو یہ اس کی طرف سے دوسری طلاق بائن ہوگی۔اس کے بعد وہ پھر باہمی رضامندی سے نکاح کر سکتے ہیں۔یہ ان کا 46