دینی نصاب — Page 47
تیسرا نکاح ہوگا جس کے نتیجہ میں صرف ایک باقی طلاق کا حق اسے ملے گا۔یعنی اگر وہ اب طلاق دے گا تو یہ اس کی طلاق بتہ “ ہوگی اور دونوں میں قطعی جُدائی ہو جائے گی نہ رجوع ہو سکے گا اور نہ دوبارہ نکاح۔گویا طلاق بتہ کے واقعہ ہونے کیلئے دو طلاقوں کے درمیان یا تو رجوع حائل ہونا چاہیے یا دوسرا نکاح۔اگر ان دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں تو خواہ کتنی بار وہ منہ سے طلاق کا لفظ بولے طلاق ایک ہی متصور ہوگی۔جب کوئی مرد تیسری طلاق دیدے تو پھر اسے رجوع کا اختیار نہیں رہتا۔اور نہ وہ اس عورت کے ساتھ اب نکاح کرسکتا ہے۔ہاں اگر کوئی دوسرا شخص اس عورت کے ساتھ نکاح کرلے اور پھر وہ فوت ہو جائے یا اپنی مرضی سے کسی مجبوری کی وجہ سے طلاق دیدے تو پھر یہ اس عورت کے ساتھ اس کی رضامندی سے شادی کر سکتا ہے۔لیکن اگر عمداً کسی دوسرے کے ساتھ نکاح پڑھا جائے تا کہ وہ نکاح کے بعد اُس عورت کو طلاق دیدے اور یہ پھر اس سے شادی کر سکے تو ایسے نکاح کو حلالہ کہتے ہیں۔اور حلالہ حرام ہے۔عدت کے ایام میں مرد پر عورت کو نان و نفقہ (خرچ خوراک و پوشاک ) دینا فرض ہے۔اور مہر تو عورت کی جائیداد ہے جو بہر حال مرد پر ادا کرنا فرض ہے۔اور اگر مہر کے علاوہ اور مال یا جائیداد بھی مرد نے عورت کو دی ہوئی ہو تو وہ ان میں سے بھی کچھ واپس نہیں لے سکتا جب تک کہ وہ فاحشہ مبینہ ( ظاہر ابدکاری) کی مرتکب نہ ہو۔احکام عدت عدت اُس میعاد کو کہتے ہیں جس میں عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنا منع ہو۔مطلقہ ( وہ عورت جس کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی ہو ) اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت 47