دینی نصاب

by Other Authors

Page 44 of 377

دینی نصاب — Page 44

کرے۔اُس کی عزت کی حفاظت کرے۔اور اولاد کی اچھی طرح سے پرورش کرے۔اور مرد کیلئے باعث راحت و آرام ہو۔تعدد ازدواج : اگر کسی شخص کو حقیقی ضرورت ہو۔یعنی اس کی بیوی بیمار ہو یا اس کے اولا د نہ ہوتی ہو یا صحت پر برا اثر پڑتا ہو۔یا فتنہ میں پڑنے کا خوف ہو تو وہ ایک سے زیادہ شادیاں کرسکتا ہے۔مگر ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔یہ صرف اسلام کی ہی خوبی ہے کہ اس نے خاص حالات میں کثرت ازدواج ( ایک سے زیادہ شادیاں کرنے ) کا حکم دیا ہے۔باقی کسی مذہب میں یہ خوبی نہیں پائی جاتی۔مگر شرط یہ ہے کہ وہ ہر ایک بیوی کے ساتھ عدل و انصاف کرے۔کسی کا حق نہ مارے یعنی ہر ایک بیوی کو ایک جیسا خرچ دے اور برابر باری مقرر کرے۔کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کرے۔اگر کوئی شخص عدل و انصاف نہ کر سکتا ہو تو اس کیلئے ہرگز اجازت نہیں کہ وہ دوسری شادی کرے۔محرمات نکاح وہ عورتیں جن سے نکاح کرنا حرام ہے یہ ہیں :۔(1) ماں (۲) باپ کی منکوحہ (۳) دادی (۴) نانی (۵) پھوپھی (۶) خاله (۷) رضاعی ماں (۸) رضاعی بہن (۹) ساس (۱۰) شادی شدہ عورت (۱۱) بہن (۱۲) بیٹی (۱۳) بھتیجی (۱۴) بھانجی (۱۵) بیوی کے پہلے خاوند کی لڑکی (۱۶) ایک وقت میں دو حقیقی بہنیں (۱۷) ایک وقت میں خالہ اور بھانجی یا پھوپھی اور بھتیجی (۱۸) بیٹے کی بیوی (۱۹) مشرکہ اور (۲۰) زانیہ۔ان کے علاوہ سب عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے۔44