دینی نصاب — Page 349
خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ہے ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو! نصیحت ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہووے دل وجاں اُس پہ قرباں ہے قرآن شریف کی خوبیاں نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس ނ حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا ناگہاں غیب یا الہی ! تیرا فرقاں ہے انوار کا دریا نکلا پودا چشمه اصفی نکلا کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دُکانیں دیکھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا 349