دینی نصاب — Page 350
شانِ اسلام ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلائے شمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام ہے نور اٹھو دیکھو سنایا ہم نے کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تسلّی تسلی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے نور ملا نور پیمبر سے ہمیں جب ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفیٰ ۴ ترا حد ہو سلام اور رحمت اس سے نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے 350