دینی نصاب — Page 263
موہبت عطا ہوا تھا۔جس کا اظہار ان تقاریر سے ہوتا تھا جو وقتاً فوقتاً آپ جلسہ سالانہ پر یا دوسرے مواقع پر کرتے تھے۔آیت کریمہ لا یمشہ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کے مطابق یہ اس امر کا ثبوت تھا کہ سیدنا پیارے محمود کے دل میں خدا اور اس کے رسول اور اس کے کلام پاک کی محبت کے سوا کچھ نہ تھا۔لیکن بُرا ہو حسد اور بغض کا۔منکرین خلافت آپ کے خلاف بھی منصوبے بناتے رہتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ کسی طرح حضرت خلیفہ اول آپ سے بدظن ہو جائیں۔انکو آپ سے دشمنی اس بناء پر تھی کہ اول تو آپ حضرت خلیفہ اول کے کامل فرمانبردار اور حضور کے دست و بازو اور زبردست مؤید تھے۔دوسرے آپ کے تقوی وطہارت تعلق باللہ ، اجابت دعا اور مقبولیت کی وجہ سے انہیں نظر آرہا تھا کہ جماعت میں آپ کی ہر دلعزیزی اور مقبولیت روز بروز ترقی کر رہی ہے اور خود حضرت خلیفتہ المسیح اول بھی آپ کا بیجدا کرام کرتے ہیں۔ان وجوہات کے باعث آپ کا وجود منکرین خلافت کو خار کی طرح کھٹکتا تھا۔خلافت اولیٰ کے دور میں آپ نے ہندوستان کے مختلف علاقوں نیز بلاد عرب و مصر کا سفر کیا۔حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔1911 ء میں آپ نے مجلس انصار اللہ قائم فرمائی اور ۱۹۱۳ ء میں اخبار الفضل جاری کیا اور اس کی ادارت کے فرائض اپنی خلافت کے دور تک نہایت عمدگی اور قابلیت سے سرانجام دیئے۔عہد خلافت حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد ۱۴ مارچ ۱۹۱۷ ء کو مسجد نور میں خلافت کا انتخاب ہوا۔دواڑھائی ہزار افراد نے جو اس وقت موجود تھے بیعت خلافت کی۔قریباً پچاس افراد ایسے تھے جنہوں نے بیعت نہیں کی۔اور اختلاف کا راستہ اختیار کیا۔اختلاف کرنے والوں میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب جو اپنے آپ کو سلسلہ کے عمود سمجھتے تھے پیش پیش تھے۔خلافت سے انکار اور حبل اللہ کی ناقدری کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لوگ رسول کی تخت گاہ ( قادیان) 263