دینی نصاب — Page 264
سے منقطع ہوئے۔صدر انجمن احمدیہ سے منقطع ہوئے۔نظام وصیت سے منقطع ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت سے منکر ہوئے اور اپنے کئی عقائد ونظریات میں اس لئے تبدیلی کرنے پر مجبورہوئے کہ شاید عوام میں مقبولیت حاصل ہولیکن وہ بھی نصیب نہ ہوئی۔حضرت خلیفہ اسی الثانی کا عہد خلافت اسلام کی ترقی اور بے نظیر کامیابیوں کا درخشاں دور ہے۔اس باون سالہ دور میں خدائے تعالیٰ کی غیر معمولی نصرتوں کے ایسے عجیب در عجیب نشانات ظاہر ہوئے کہ ایک دنیا ورطۂ حیرت میں پڑگئی اور دشمن سے دشمن کوبھی تسلیم کئے بغیر چارہ نہ رہا کہ اس زمانہ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور یہ کہ امام جماعت احمد یہ بے نظیر صلاحیتوں کے مالک ہیں۔آپ کے اس باون سالہ عہد خلافت میں مخالفتوں کے بہت سے طوفان اُٹھے۔اندرونی فتنوں نے سراٹھایا مگر آپ کے پائے استقلال کو ذرا جنبش نہ ہوئی اور یہ الہی قافلہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بدستور بڑھتا گیا۔ہر فتنہ کے بعد جماعت میں قربانی اور فدائیت کی روح میں نمایاں ترقی ہوئی اور قدم آگے ہی آگے بڑھتا گیا۔جس وقت منکرین خلافت مرکز سلسلہ کو چھوڑ کر گئے اس وقت انجمن کے خزانے میں چند آنوں کے سوا کچھ نہ تھا لیکن جس وقت آپ کا وصال ہوا اس وقت صدر انجمن اور تحریک جدید کا بجٹ اے لاکھ نواسی ہزار تک پہنچ چکا تھا۔اختلاف کے وقت ایک کہنے والے نے مدرسہ تعلیم الاسلام کے متعلق کہا کہ یہاں اُلو بولیں گے۔لیکن خدا کی شان کہ وہ مدرسہ نہ صرف کالج بنا بلکہ اس کے نام پر بیبیوں تعلیمی ادارے مختلف ممالک میں قائم ہوئے۔مصلح موعودؓ کے بارے میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتلایا تھا وہ لفظاً لفظاً پورا ہوا۔حضرت فضل عمر" جلد جلد بڑھے اور دنیا کے کناروں تک اشاعتِ اسلام کے مراکز قائم کر کے شہرت پائی۔آپ کے بہت سے کارناموں میں سے چند کا ذکر اختصار سے درج ذیل ہے :- ۱۔جماعتی کاموں میں تیزی اور مضبوطی پیدا کرنے کیلئے صدر انجمن احمدیہ کے کاموں کو مختلف شعبوں میں تقسیم کر کے نظارتوں کا نظام قائم کیا۔264