دینی نصاب — Page 262
باعث آپ کی تعلیمی حالت اچھی نہ رہی۔اور آپ ہر جماعت میں رعایتی ترقی پاتے رہے۔مڈل اور اندانس (میٹرک) کے سرکاری امتحانوں میں فیل ہوئے اس طرح دنیوی تعلیم ختم ہوگئی۔اس دری تعلیم کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح اول نے اپنی خاص تربیت میں لیا۔قرآن کریم کا ترجمہ تین ماہ پڑھا دیا پھر بخاری بھی تین ماہ میں پڑھا دی۔کچھ طب بھی پڑھائی اور چند عربی کے رسالے پڑھائے۔قرآنی علوم کا انکشاف تو موہبت الہی ہوتا ہے مگر یہ درست ہے کہ قرآن کریم کی چاٹ حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے ہی لگائی۔جب آپ کی عمر ۱۷-۱۸ سال کی تھی ایک دن خواب میں ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور اس نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھائی۔اس کے بعد سے تفسیر قرآن کا علم خدائے تعالیٰ خود عطا کرتا چلا گیا۔۱۹۰ء میں جبکہ آپ کی عمرے اسال تھی۔صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو مجلس معتمدین کا رکن مقرر کیا۔۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جب وصال ہوا تو غم کا ایک پہاڑ آپ پر ٹوٹ پڑا۔غم اس بات کا تھا کہ سلسلہ کی مخالفت زور پکڑے گی اور لوگ طرح طرح کے اعتراضات کریں گے تب آپ نے حضور کے جسد اطہر کے سرہانے کھڑے ہو کر اپنے رب سے عہد کیا کہ :- اگر سارے لوگ بھی آپ ( یعنی مسیح موعود ) کو چھوڑ دیں گے اور میں اکیلا رہ جاؤں گا تو میں اکیلا ہی ساری دنیا کا مقابلہ کروں گا اور کسی مخالفت اور دشمن کی پرواہ نہیں کروں گا“۔تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 548 ، سید نا حضرت مسیح موعود کا وصال مبارک جنازه و تدفین ) یہ عہد آپ کی اولوالعزمی اور غیرت دینی کی ایک روشن دلیل ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ آپ نے اس عہد کو خوب نبھایا۔۱۵-۱۶ برس کی عمر میں پہلی مرتبہ آپ کو یہ الہام ہو ان الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔اس پہلے الہام میں ہی اس امر کی بشارت موجود تھی کہ آپ ایک دن جماعت کے امام ہوں گے۔قرآن کریم کا فہم آپ کو بطور 262