دینی نصاب

by Other Authors

Page 199 of 377

دینی نصاب — Page 199

محبت کی تعلیم مانع ہوئی لیکن سامنے آکر نشان دیکھنے اور دکھانے اور مریضوں کی شفایابی کیلئے بالمقابل دُعا کرنے میں کونسا امر مانع تھا۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔مطلب یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے مسیحیوں کو ہر طرح مباہلہ کیلئے بلایا لیکن کسی کو سامنے آنے کی جرات نہ ہوئی مگر خدا کو اس رنگ میں بھی اسلام کا غلبہ اور مسیحیت کی شکست دکھانی منظور تھی۔چنانچہ انہی دنوں امریکہ میں ایک شخص ڈوئی کھڑا ہوا جو اصل میں سکاٹ لینڈ کا باشندہ تھا اس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی جماعت اپنے گرد جمع کر لی اور مسیحیت کی حمایت میں اپنے دجل کا جھنڈا بلند کیا اور کہا کہ میں مسیح ناصری کا رسول ہوں اور مسیح کے عنقریب آنے کی بشارت لے کر آیا ہوں اور کہا کہ میرا یہ بھی کام ہے کہ میں اسلام کو نیست و نابود کروں۔شخص پرلے درجہ کا دشمن اسلام تھا اور عیسائیت کی محبت میں گویا محوتھا اور اس کی تائید میں ایک اخبار بھی نکالا کرتا تھا جس کا نام لیوز آف ہیلنگ تھا۔اس نے اپنے اس اخبار میں شائع کیا کہ اگر میں سچا نبی نہیں ہوں تو پھر روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں جو خدا کا نبی ہو۔نیز لکھا کہ ”میں خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آوے کہ اسلام دنیا سے نابود ہو جاوے۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔اے خدا تو اسلام کو ہلاک کر دئے“۔اور یہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سخت گالیاں دیا کرتا تھا۔غرض تمام مسیحی دنیا میں یہ شخص اسلام کی عداوت اور اس کے متعلق بد زبانی میں اول نمبر والوں میں سے تھا۔حضرت مرزا صاحب کو اس کے فتنے کی اطلاع ہوئی تو آپ نے ایک اشتہار کے ذریعہ اس کو مباہلہ کیلئے بلایا اور یہ اشتہار امریکہ و یورپ کے بہت سے اخباروں میں چھپوا دیا۔چنانچہ ان اخبارات کی فہرست حقیقۃ الوحی اور ر یو یو آف ریلیجنز میں شائع ہو چکی ہے۔ڈوئی اس قدر مغرور تھا کہ اس نے حضرت مرزا صاحب کی اس دعوت مباہلہ کا جواب تک نہ دیا بلکہ صرف اپنے اخبار میں یہ چند سطریں شائع کر دیں کہ: 199